Bharat Express DD Free Dish

Iran Israel War

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جب کوئی فریق جیت رہا ہو اور دوسرا ہار رہا ہو، تو معاملہ کچھ زیادہ ہی پیچیدہ ہو جاتا ہے، لیکن ہم تیار اور رضامند ہیں اور ایران سے بات چیت کر رہے ہیں

اسرائیل اورایران کے درمیان چل رہی جنگ کے درمیان ہندوستان کا ایک گاؤں اچانک سرخیوں میں چھا گیا ہے۔ اس گاؤں کا اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی کے ساتھ رشتہ ہے۔ آئیے آج ہم آپ کو بتاتے ہیں۔

بڑا امام باڑہ مسجد کے باہر احتجاج کررہے لوگوں کے ہاتھوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصویر تھی۔ جبکہ تختی پر لکھتا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ ہیں۔ مظاہرین نے خامنہ ای کی حمایت میں نعرے بازی کی۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف اپنی فوج بھیجی تو حالات مزید خراب ہوں گے۔

ان کے علاوہ جنگ میں استعمال ہونے والے گولہ بارود، لڑاکا طیارے اور لاجسٹک سپورٹ سسٹم بھی اخراجات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ اسرائیلی شہروں پر میزائل حملوں سے بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔

ایران کے ذریعہ اسرائیل کے بیرشیبا کے سوروکا اسپتال پرکئے گئے حملے کے بعد اسرائیل کے وزیردفاع نے ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای پرسیدھا حملہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ وزیردفاع کیٹز کے مطابق ایران نے جنگی جرم کیا ہے اوراس کے لئے راست طورپر آیت اللہ علی خامنہ ای ذمہ دارہیں۔ ہم اب ان کو ہی ختم کردیں گے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اسرائیل کوایک بارپھر سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے بہت بڑی بھول کی ہے اور وہ اس غلطی کی سزا ضرور پائے گا۔ ہم اپنے شہیدوں کے خون اوراپنے علاقے میں ہوئے حملوں کوکبھی نہیں بھولیں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اگرامریکہ نے کسی قسم کی مداخلت کی تو پورے خطے میں کھلی جنگ شروع ہو جائے گی۔

اقوام متحدہ سلامتی کونسل (یواین ایس سی) میں اسرائل-ایران جنگ سے متعلق ایک ایمرجنسی میٹنگ بلائی گئی ہے۔ ایران نے میٹنگ کی گزارش کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں امریکہ کی راست شراکت ہے اور اس کی وجہ سے صورتحال خطرناک شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔

اسرائیلی فوج نے اس حملے کی ذمہ داری لیتے ہوئے کہا کہ وہ تہران میں فوجی ٹھکانوں پر حملہ کررہی تھی، اسی دوران لویجان علاقہ میں بمباری ہوئی۔

صہیونی اخبار یدیعوت آحارونوت نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے وسیع پیمانے پر میزائل حملوں کے نتیجے میں اسرائیل کی معیشت تقریباً مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہے