Bharat Express DD Free Dish

Iran Israel War

ایران نے اسرائیل پر سخت حملہ کیا ہے۔ مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی فوج نے بدھ کے روز تل ابیب پر الفتح-1 میزائل سے حملہ کیا۔الفتح ایک ہائپرسونک میزائل ہے، جو 5 میک کی رفتار سے ہدف کو نشانہ بناتا ہے۔

 ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تل ابیب میں موجود موساد کے ہیڈ کوارٹرکومیزائل حملے میں تباہ کردیا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق، یہ کارروائی اسرائیل کے خلاف جوابی حملوں کے تحت کی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، موساد کی سرگرمیوں کو چلانے والا یہ اہم مرکز پوری طرح برباد ہوگیا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے رپورٹوں کی تردید کی، جس میں کہا گیا کہ وہ جنگ بندی پرکام کرنے کے لئے جی-7 سربراہی اجلاس سے قبل واپس واشنگٹن گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تہران چھوڑنا ایرانیوں کے لئے بہترہوگا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جی-7 سربراہی اجلاس درمیان میں ہی چھوڑکرچلے گئے۔ اب انہوں نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمینوئل میکرون پر بھی تنقید کی ہے۔

سربراہی اجلاس کے سرکردہ رہنماؤں نے کہا، "اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ ہم اس کی سلامتی کے لیے اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں۔

اس حوالے سے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے آرمینیا کے وزیر خارجہ Ararat Mirzoyan سے بات چیت کی ہے۔ آرمینیا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔ بحران کے وقت مسلسل رابطہ اور قریبی تعاون کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے۔

ایران کے ایک میزائل نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں امریکی سفارت خانہ کو نشانہ بنایا، جس سے عمارت کے ایک حصے کو نقصان ہوا۔ امریکی سفیر نے تصدیق کی ہے کہ سفارت خانہ کو نقصان ہوا ہے، لیکن سبھی اہلکار محفوظ ہیں۔ ایران کے اس حملے نے مشرق وسطیٰ کے اس جنگ کو مزید تیز کردیا ہے۔

نیوز ایجنسی روئٹرز نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک ایران کے 14 جوہری سائنسدان ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایران اب اس جنگ سے پیچھے ہٹنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی کوئی حد نہیں کہ وہ اس جنگ کو جیتنے کے لیے کس حد تک جا سکتے ہیں،

ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے جمعہ کی رات اسرائیل پر فضائی حملہ کیا، جس میں ملک کے دو بڑے شہروں یروشلم اور تل ابیب میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔