امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ (فائل فوٹو)
امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ جی-7 سمٹ کو درمیان میں ہی چھوڑکرچلے گئے۔ ٹرمپ کے جانے کے بعد فرانس کے صدر ایمینوئل میکرون نے ڈرنالڈ ٹرمپ پرطنزکرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اسرائیل اور ایران کے درمیان سیزفائرپرکام کرنے کے لئے گئے ہیں۔ ٹرمپ نے اب انہیں جواب دیا ہے اورسمٹ چھوڑنے کی وجہ بتائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میکرون کوپتہ ہی نہیں ہے کہ میں کیوں چلا گیا۔ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ وہ سیز فائرسے بھی کچھ بڑا کام کرنے والے ہیں۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے ایمینوئل میکرون کو’پبلیسٹی سیکر’ کہا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پرایک پوسٹ شیئرکیا ہے۔ ٹرمپ نے لکھا، ”تشہیرکی خواہش رکھنے والے فرانس کے صدر ایمینوئل میکرون نے غلطی سے کہا کہ میں کناڈا میں جی-7 سمٹ چھوڑ کرواپس جا رہا ہوں تاکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر کام کرسکوں۔ غلط بات! انہیں پتہ ہی نہیں ہے کہ میں اب واشنگٹن کیوں جا رہا ہوں، لیکن یہ یقینی ہے کہ اس کا سیز فائر سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس سے کہیں زیادہ بڑا کام ہے۔ ایمینوئل ہمیشہ غلط ہی بولتے ہیں۔”
ٹرمپ نے ایران کو دی وارننگ
ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے لوگوں سے تہران کوخالی کرنے کے لئے بھی کہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ہے اگر ایران امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے پر راضی ہوتا توموجودہ بحران سے بچا جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈیل ڈیڈ لاک تک پہنچ گئی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جب تک کشیدگی کم کرنے کے لئے اقدامات نہیں کئے گئے، تنازعہ مزید بڑھنے کا خطرہ رہے گا۔
جی-7 ممالک نے کی اسرائیل کی حمایت
جی-7 ممالک کے لیڈران نے مشرق وسطیٰ (مڈل ایسٹ) میں امن اوراستحکام کے لئے اپنی حمایت اسرائیل کودی ہے۔ اس سے ایران کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ جی-7 ممالک نے کہا ہے کہ اسرائیل کو خود کی حفاظت کرنے کا پورا اختیارہے اورہم اس کے ساتھ ہیں۔ سربراہی اجلاس سے جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں جی-7 کے لیڈران نے بھی ایران کوعلاقائی عدم استحکام اوردہشت گردی کی بڑی وجہ قراردیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



