نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے ایران کے تین جوہری مقامات پر حالیہ امریکی حملوں اور اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع پر گہری تشویش کا اظہار کیاہے۔ انہوں نے اس تنازع پر مسلم دنیا کی خاموشی پر بھی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع پر بات کرتے ہوئے عبداللہ نے کہاکہ میں مایوس ہوں کہ مسلم دنیا خاموش ہے۔ آج ایران اس حال میں ہے، لیکن کل دوسرے ممالک بھی امریکہ کے ہاتھوں تباہ ہو جائیں گے، اگر وہ آج نہ بیدار ہوئے تو انہیں اپنی باری کا انتظار کرنا پڑے گا۔
فاروق عبداللہ کا یہ بیان عالمی سیاست میں مسلم ممالک کے اتحاد اور فعالیت کے فقدان کو واضح کرتا ہے۔ عبداللہ کا ماننا ہے کہ اگر مسلم ممالک اس بحران میں اکٹھے نہیں ہوئے تو انہیں مستقبل میں ایسے ہی حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ فاروق عبداللہ سے پہلے حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے امریکی حملوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں پاکستانیوں سے پوچھنا چاہیے کہ کیا وہ ٹرمپ کو اس کے لیے امن کا نوبل انعام حاصل کرانا چاہتے تھے۔انہوں نے کہا کہ اس امریکی حملے نے نیتن یاہو کو غزہ میں ہونے والی نسل کشی کو چھپانے میں مدد فراہم کی ہے اور وہ ایسا کرتے رہتے ہیں۔ غزہ میں نسل کشی ہو رہی ہے اور امریکہ کو اس کی کوئی فکر نہیں۔
درحقیقت اتوار کو امریکہ نے ایران کے تین ایٹمی اڈوں فردو، نطنز اور اصفہان پر حملہ کیا۔ اس کے بعد پورے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی۔ امریکی حملے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے تل ابیب، حیفہ جیسے اسرائیل کے 10 شہروں پر حملے کیے جس میں متعدد اسرائیلی شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔اس کے بعد اسرائیلی ڈیفنس فورس نے مغربی ایران میں کئی فوجی تنصیبات پر حملہ کیا۔ آئی ڈی ایف نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے مغربی ایران میں کئی فوجی تنصیبات کو تباہ کر دیا ہے۔دوسری جانب ایران نے امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اپنی خودمختاری پر حملہ قرار دیا۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان دیرینہ دشمنی چلی آ رہی ہے۔ اسرائیل ایران کے جوہری ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت کے بارے میں فکر مند ہے، جب کہ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

