Bharat Express DD Free Dish

Muslim Countries

اسرائیل کے معاملے میں امریکہ اوریوروپ کا دباؤ ہمیشہ اہم مانا جاتا ہے۔ مغربی ممالک کھلے طور پراس کی حمایت کرتے ہیں اور اقوام متحدہ جیسے اسٹیج پراس کا موقف مضبوط کرتے ہیں۔ اگرکوئی مسلم ملک اسرائیل کے خلاف سیدھی کارروائی کرتا ہے تواسے مغربی ممالک سے سخت پابندی اوراقتصادی نقصان کا خوف ستانے لگتا ہے۔

فاروق عبداللہ کا یہ بیان عالمی سیاست میں مسلم ممالک کے اتحاد اور فعالیت کے فقدان کو واضح کرتا ہے۔ عبداللہ کا ماننا ہے کہ اگر مسلم ممالک اس بحران میں اکٹھے نہیں ہوئے تو انہیں مستقبل میں ایسے ہی حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

غزہ کی مکمل ناکہ بندی کر کے کھانے پینے کی تمام تر اشیاء کے علاوہ ادویات اور ایندھن کی ترسیل کی ان لاکھوں بے گھر فلسطینیوں کے لیے بلاک کر رکھی ہے۔ جس سے پورے غزہ میں قحط کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ اس لیے بمباری سے بچ گئے درختوں کے پتے کھانے کے علاوہ یہ فلسطینی اسرائیلی جبر اوراپنی عالمی برادری کی بے بسی اور بےحسی کے ہاتھوں مجبور

ذرائع کے مطابق نیٹو جیسی تنظیم کے قیام کا مقصد یہ ہے کہ یہ مسلم ممالک مل کر انسداد دہشت گردی آپریشن کریں گے۔ وہ اپنی اپنی فوجوں کو جدید بنانے میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔ اپنے رکن ممالک کے اندرونی استحکام کے لیے بیرونی مشکلات کا مقابلہ کریں گے۔

آیت اللہ خامنہ ای نے حزب اللہ کے سابق چیف  کے بارے میں کہا کہ سید حسن نصر اللہ کا جسدِ خاکی تو چلا گیا لیکن ان کا حقیقی کردار، ان کی روح، ان کا انداز اور ان کی آواز آج بھی ہمارے درمیان ہے اور رہے گی۔ وہ ظالم اور شکاری شیطانوں کے خلاف مزاحمت کا بلند پرچم تھے۔

ترک صدر نے کہا ایک ہی اقدام اسرائیلی جارحیت کو روک سکتا ہے ، اسرائیلی بدمعاشی اور دہشت گردی کو روکنے کا یہی ایک راستہ ہے کہ مسلمان ملک باہم اتحاد کریں۔

قرارداد کو مغرب اور روس کے درمیان تنازع کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے کیونکہ سربیا ماسکو کا اتحادی ہے۔ زیادہ تر مسلم ممالک نے قرارداد پر مغرب کے ساتھ ووٹ دیا۔

ڈنمارک حکومت مقدس مذہبی کتابوں سے متعلق احتجاجی مظاہرہ کو روکنے کے لئے ایک ایسے قانون کی تجویز پیش کر رہی ہے، جو مذہبی کتابوں کی توہین پر پابندی لگائے گا۔

سوئیڈن کی حکومت پبلک آرڈرایکٹ میں ترمیم کے بارے میں غوروخوض کر رہی ہے، جس کے ذریعہ پولیس کو اس بات کا اختیار ہوگا کہ وہ قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے کی اجازت نہ دے۔