اسرائیل-ایران کے درمیان چل رہی جنگ میں اب امریکہ کی بھی انٹری ہوگئی ہے۔ ہفتہ-اتوارکی دیررات امریکہ نے ایران کے تین جوہری ٹھکانوں پرزبردست حملہ کیا، جس کی وجہ سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اس درمیان ایران کی گزارش پر پاکستان، چین اور روس کی حمایت سے اقوام متحدہ سلامتی کونسل (یواین ایس سی) کی ایمرجنسی میٹنگ ہوئی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی میٹنگ میں پاکستان، چین اورروس جنگ بندی پرزور دیا۔
دراصل، امریکہ کے ایران پرحملے کے بعد بین الاقوامی تشویش میں اضافہ کردیا ہے، جس کی وجہ سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یواین ایس سی) نے اتوارکوایک ایمرجنسی میٹنگ بلانے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں امریکہ کے قدموں اوروسط ایشیا میں بڑھتی ہوئی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس میٹنگ کے لئے روس، چین اور پاکستان نے اپنی حمایت دی ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک ترجمان کے مطابق، امریکی حملوں اوراس کے ممکنہ مواقع سے متعلق سلامتی کونسل میں میٹنگ ہوئی۔
یواین ایس سی کی ایمرجنسی میٹنگ
ایران نے اپنی تین نیوکلیئرسائٹ پرامریکی حملے کے بعد اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی ایمرجنسی میٹنگ بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ کا حملہ پورے خطے کے لئے خطرہ پیدا کرنے والا ہے۔ ایسے میں وہ چاہتا ہے کہ امریکی حملوں پراپنی بات دنیا کے سامنے رکھے۔ ایرانی سفیرعامرسعید ایرانوی نے ایک خط لکھ کر کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے سب سے طاقتورادارے کوبین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹرکے تحت امریکہ کوجوابدہ بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے ہوں گے۔
امریکہ نے ایران کے نیوکلیئرٹھکانوں پرکیا حملہ
ہفتے کی رات، امریکہ نے اپنے بنکربسٹربموں سے فردو، اصفہان اورنتانزمیں ایران کے جوہری مقامات پرفضائی حملے کئے تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود سوشل میڈیا پریہ اطلاع دی تھی۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ قدم ایران کی جانب سے بڑھتے ہوئے جوہری خطرے کو روکنے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ تاہم اس حملے کے حوالے سے ایران نے نہ صرف امریکہ پربین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا بلکہ اسرائیل پرمیزائل حملے تیزکرتے ہوئے دونوں ممالک کوخبرداربھی کیا۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کواقوام متحدہ میں اٹھائے گا۔ ساتھ ہی روس اورچین نے امریکہ کے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ حملہ علاقائی عدم استحکام کومزید بڑھا سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
