Bharat Express DD Free Dish

Imran Khan

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی امین گنڈاپور نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے یہ استعفیٰ عمران خان کے حکم پر دیا ہے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ جنرل منیر نے آرمی چیف بننے کے بعد افغانستان کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کی دانستہ کوشش کی، افغان شہریوں کو ملک بدر کیا، ڈرون حملے کروائے اور ایسے اقدامات کیے جن سے خطے میں کشیدگی بڑھی۔

پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت سے سابق وزیراعظم عمران خان کوبڑا جھٹکا لگا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف پارٹی کے 75 لیڈران اورکارکنان کو9 مئی 2023 کے فسادات سے متعلق مقدمات میں سزائیں سنائی گئی ہیں۔

عمران خان کے بیٹے قاسم اورسلیمان اپنے والد کی حمایت میں ملک گیرتحریک میں شامل نہیں ہوسکیں گے کیونکہ ان کے اوور سیزسٹیزن کارڈ یا توگم ہوچکے ہیں، یا ختم ہوچکے ہیں۔ عمران خان کی بہن کے مطابق، ان دونوں نے نئے کارڈزکے لئے درخواستیں دی ہیں تاہم 5 اگست تک ان کے ملنے کا امکان نہیں ہے۔

پاکستان کی شہباز شریف حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی پارٹی سے جڑے 27 یوٹیوب چینلوں کو بلاک کردیا ہے۔ نیشنل سائبرکرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی عرضی پر یہ کارروائی کی گئی۔ چینل مالکان کا کہنا ہے کہ انہیں بغیرسنے ہی سزا دی گئی ہے۔

جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پاکستان کی شہباز شریف حکومت کو سخت وارننگ دیتے ہوئے ایک ہفتے میں اسلام آباد پرقبضہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے حکومت پرعوام کودبانے کا الزام لگایا اور2024 کے انتخابات کو جعلی قراردیا۔

امت مٹکر نے فوری طور پر قریبی اگری پاڑا پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی اور سی سی ٹی وی فوٹیج پولیس کو سونپ دی۔ پولیس نے عمران خان اور اس کے ساتھی کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ عمران کو دسمبر 2024 میں ممبئی کرائم برانچ نے 40 کلو گانجے کے ساتھ گرفتار کیا تھا اور تب سے وہ عدالتی حراست میں تھا۔

جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل بنا دیا گیا ہے، قابل ذکر بات یہ ہے کہ بہتر ہوتا کہ عاصم منیر کو بادشاہ کا خطاب دیا جاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں ابھی تک جنگل قانون نافذ ہے۔

بھارت اور پاکستان میں جنگ بندی کے نفاذ کی اطلاعات کے درمیان پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی موت سے متعلق افواہوں نے کہرام مچا دیا ہے۔

وائرل ویڈیو کے ایک اور حصے میں صحافی نے مروت سے سوال کیا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو تحمل کا مظاہرہ کیسے کرنا چاہیے۔ اس پر انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا مودی میری خالہ کے بیٹے  ہیں،