Bharat Express DD Free Dish

Imran Khan

گزشتہ ماہ پی ٹی آئی نے پاکستانی سینیٹ کے چیئرمین کو ایک خط لکھ کر عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو ادیالہ جیل میں مبینہ ’تنہائی قید‘ اور ’بنیادی حقوق کی خلاف ورزی‘ کے الزامات کی تحقیقات کے لیے فوری پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ پارٹی نے اس کمیٹی کے لیے سینیٹر علی ظفر، حامد خان، اعظم سواتی اور مثال اعظم کے نام تجویز کیے تھے۔

پاکستان میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی حمایت کرنا چار صحافیوں کو مہنگا پڑ گیا ہے۔ ملک کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ایک متنازع فیصلے میں چار صحافیوں سمیت آٹھ افراد کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ اس فیصلے کے بعد پاکستان میں اظہارِ رائے کی آزادی اور صحافت کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

پاکستان کی سیاست میں ایک بڑی اور سنسنی خیز پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سابق وزیر اعظم اور عالمی شہرت یافتہ کرکٹر عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ ٹو کیس میں 17، 17 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

پاکستان میں سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہنوں اور پارٹی کے متعدد لیڈروں و کارکنوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر ہونے والے احتجاج کے بعد عمل میں آئی، جہاں عمران خان کے اہلِ خانہ اور حامیوں نے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر شدید نعرے بازی کی تھی۔

پاکستان کی حکومت عوامی احتجاج اور بڑھتے سیاسی دباؤ کے آگے جھک گئی ہے اور بالآخر سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی بہن عظمیٰ خانم کو ان سے جیل میں ملاقات کی اجازت دے دی گئی ہے۔ عمران خان گزشتہ دو برس سے زائد عرصے سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

 پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے سے ان کی فیملی پہلے ہی تشویش میں تھی۔ اب حکومت کے ایک اورفیصلے نے ان کی پریشانی میں اضافہ کر دیا ہے۔ فیملی کا کہنا ہے کہ عمران خان کے بارے میں کچھ بڑا چھپایا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان میں ٹی وی پران کے نام لینے پرپابندی ہے اورانٹرنیٹ سے ان کی تصاویر بھی ہٹا دی گئی ہیں۔

پاکستان کے سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے بانی عمران خان راولپنڈی کی بدنامِ زمانہ اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اگست 2023 میں کرپشن سے متعلق مقدمات میں سزا سنائے جانے کے بعد سے وہ اسی جیل میں بند ہیں۔ اب ان کے اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ عمران خان کو نہایت خراب اور غیر انسانی حالات میں رکھا جا رہا ہے اور ان کے خاندان کو ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔

یہ تشویش بھی بڑھ رہی ہے کہ کیا عمران خان وہی انجام بھگت سکتے ہیں جو سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا ہوا تھا؟ بھٹو کو بھی راولپنڈی میں ہی قید رکھا گیا تھا اور 1978 میں انہیں پھانسی دی گئی تھی۔

انسانی حقوق کے کارکن اور وکیل جبران ناصر نے بھی لکھا کہ ہر نئے جرم کے ساتھ ظلم کرنے والے مزید بےخوف ہو جاتے ہیں۔ اغوا، گرفتاریاں، چھاپے، فوجی عدالتیں، دھاندلی والے انتخابات، ترامیم—یہ سب ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔ جب وہ جوابدہی سے بچ نکلتے ہیں، ان کی طاقت اور بڑھ جاتی ہے، اور جب بیوروکریسی، میڈیا اور عدلیہ ان کا ساتھ دیتی ہے، تو ان کا حوصلہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

راولپنڈی کی ایک انسدادِ دہشت گردی عدالت (ATC) نے پیر کے روز پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کو گرفتار کرے۔