Bharat Express DD Free Dish

Imran Khan

اسپتال انتظامیہ کے مطابق عمران خان کی بینائی بہتر بنانے کے مقصد سے انہیں اینٹی وی ای جی ایف انٹرا وِٹریئل انجیکشن دیا گیا، جو آنکھوں کی مخصوص بیماریوں میں بصارت کی بحالی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ انجیکشن لگانے سے قبل ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ایک خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تاکہ علاج کے تمام مراحل کو محفوظ انداز میں مکمل کیا جا سکے۔

عمران خان کی رہائی نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی مسئلہ بھی بن چکی ہے۔ حال ہی میں بطور کرکٹر ان کے ساتھ کھیلنے والے سابق 14 کپتانوں نے ایک خط لکھ کر پاکستان کے حکمرانوں سے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

رانا ثناء اللہ نے عمران خان کو ’’غیر سیاسی رویہ رکھنے والا‘‘ اور ’ضدی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نومبر 2024 کے احتجاجی مظاہروں کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے درمیان ایک سنجیدہ رابطہ کاری کی کوشش بھی کی گئی تھی۔

پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی صحت سے متعلق سنگین خدشات سامنے آئے ہیں۔ ان کے وکیل کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی کم ہو کر محض 15 فیصد رہ گئی ہے۔

گزشتہ ماہ پی ٹی آئی نے پاکستانی سینیٹ کے چیئرمین کو ایک خط لکھ کر عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو ادیالہ جیل میں مبینہ ’تنہائی قید‘ اور ’بنیادی حقوق کی خلاف ورزی‘ کے الزامات کی تحقیقات کے لیے فوری پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ پارٹی نے اس کمیٹی کے لیے سینیٹر علی ظفر، حامد خان، اعظم سواتی اور مثال اعظم کے نام تجویز کیے تھے۔

پاکستان میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی حمایت کرنا چار صحافیوں کو مہنگا پڑ گیا ہے۔ ملک کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ایک متنازع فیصلے میں چار صحافیوں سمیت آٹھ افراد کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ اس فیصلے کے بعد پاکستان میں اظہارِ رائے کی آزادی اور صحافت کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

پاکستان کی سیاست میں ایک بڑی اور سنسنی خیز پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سابق وزیر اعظم اور عالمی شہرت یافتہ کرکٹر عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ ٹو کیس میں 17، 17 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

پاکستان میں سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہنوں اور پارٹی کے متعدد لیڈروں و کارکنوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر ہونے والے احتجاج کے بعد عمل میں آئی، جہاں عمران خان کے اہلِ خانہ اور حامیوں نے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر شدید نعرے بازی کی تھی۔

پاکستان کی حکومت عوامی احتجاج اور بڑھتے سیاسی دباؤ کے آگے جھک گئی ہے اور بالآخر سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی بہن عظمیٰ خانم کو ان سے جیل میں ملاقات کی اجازت دے دی گئی ہے۔ عمران خان گزشتہ دو برس سے زائد عرصے سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

 پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے سے ان کی فیملی پہلے ہی تشویش میں تھی۔ اب حکومت کے ایک اورفیصلے نے ان کی پریشانی میں اضافہ کر دیا ہے۔ فیملی کا کہنا ہے کہ عمران خان کے بارے میں کچھ بڑا چھپایا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان میں ٹی وی پران کے نام لینے پرپابندی ہے اورانٹرنیٹ سے ان کی تصاویر بھی ہٹا دی گئی ہیں۔