پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان اور اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ ٹو کیس میں 17، 17 سال قید کی سزا
پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بڑی قانونی جیت حاصل ہوئی ہے۔ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو راولپنڈی کی ایک خصوصی جوابدہی عدالت نے آج بدعنوانی کے ایک معاملے میں عبوری ضمانت مل گئی ہے۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی سمیت دیگر ملزمین پر القادرٹرسٹ بدعنوانی معاملے میں ملک کے خزانے کو تقریباً 50 ارب روپئے کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔
جسٹس محمد علی ورائچ نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سماعت کی، جہاں عمران خان اور بشریٰ بی بی دونوں ایک دیگرمعاملے میں بند ہیں۔ حالانکہ ضمانت ملنے کے باوجود 49 سالہ بشریٰ بی بی اپنی غیرقانونی شادی کے معاملے میں قصوروار ٹھہرائے جانے کی وجہ سے جیل میں ہی رہیں گے۔
کیا ہے القادر ٹرسٹ معاملہ؟
القادرٹرسٹ حقیقت میں ایک یونیورسٹی سے متعلق معاملہ ہے۔ اسے جھیلم کے سوہاوا میں سال 2021 میں قائم کیا گیا تھا۔ اس پروجیکٹ کی تشکیل عمران خان، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اوران کے قریبی اتحادی ذوالفقار بخاری اوربابراعوان نے کیا تھا۔ اس یونیورسٹی کو قائم کرنے کا مقصد سوہاوا میں اچھی تعلیم فراہم کرنا تھا۔ سال 2021 میں قائم عمران خان کی اس یونیورسٹی کو ابھی تک حکومت کی طرف سے منظوری نہیں دی گئی ہے۔ معاملے میں عمران خان اور بشریٰ بی بی پر یونیورسٹی کے لئے پاکستان کے سب سے امیر شخص ملک ریاض کودھمکاکراربوں روپئے کی زمین کو ہڑپنے کا الزام ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ یونیورسٹی ایک ٹرسٹ کے طور پر رجسٹرڈ ہوئی تھی، لیکن یہاں طلبا سے فیس لی جاتی تھی۔
کیا ہے غیرقانونی شادی کا معاملہ؟
بشریٰ بی بی کے سابق شوہرخاورمینکا نے بشریٰ بی بی اورعمران خان کے خلاف غیرقانونی شادی کرنے کا معاملہ درج کروایا تھا۔ خاور مینکا نے الزام لگائے تھے کہ انہوں نے بشریٰ بی بی کے ذریعہ عدت کی لازمی مدت پرعمل کئے بغیر شادی کرلی۔ خاور مینکا نے عدالت سے شادی کو غیرقانونی قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
