Bharat Express DD Free Dish

Former Prime Minister Imran Khan

پاکستان کی حکومت عوامی احتجاج اور بڑھتے سیاسی دباؤ کے آگے جھک گئی ہے اور بالآخر سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی بہن عظمیٰ خانم کو ان سے جیل میں ملاقات کی اجازت دے دی گئی ہے۔ عمران خان گزشتہ دو برس سے زائد عرصے سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

 پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے سے ان کی فیملی پہلے ہی تشویش میں تھی۔ اب حکومت کے ایک اورفیصلے نے ان کی پریشانی میں اضافہ کر دیا ہے۔ فیملی کا کہنا ہے کہ عمران خان کے بارے میں کچھ بڑا چھپایا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان میں ٹی وی پران کے نام لینے پرپابندی ہے اورانٹرنیٹ سے ان کی تصاویر بھی ہٹا دی گئی ہیں۔

پاکستان کے سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے بانی عمران خان راولپنڈی کی بدنامِ زمانہ اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اگست 2023 میں کرپشن سے متعلق مقدمات میں سزا سنائے جانے کے بعد سے وہ اسی جیل میں بند ہیں۔ اب ان کے اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ عمران خان کو نہایت خراب اور غیر انسانی حالات میں رکھا جا رہا ہے اور ان کے خاندان کو ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔

یہ تشویش بھی بڑھ رہی ہے کہ کیا عمران خان وہی انجام بھگت سکتے ہیں جو سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا ہوا تھا؟ بھٹو کو بھی راولپنڈی میں ہی قید رکھا گیا تھا اور 1978 میں انہیں پھانسی دی گئی تھی۔

پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کی بہن علیمہ خان کے خلاف ایک اور غیر ضمانتی وارنٹ جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے علیمہ خان کی جائیدادوں کی تفصیلی معلومات پیش کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

جیل میں بند پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان نے 9 مئی 2023 کو ہونے والے تشدد سے متعلق آٹھ مقدمات میں گرفتاری کے بعد ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

پاکستان کی فوجی عدالتوں میں 25 شہریوں کو سزائیں سنانے پر یورپی یونین کی ’تشویش‘ کے بعدامریکہ اور برطانیہ نے بھی اسلام آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’بین الاقوامی معاہدہ برائے شہری و سیاسی حقوق کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔

بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹرسلمان صفدر، ایف آئی اے اسپیشل پراسیکوٹرز عمیر مجید ملک اور ذوالفقارعباس نقوی عدالت میں پیش ہوئے۔طویل سماعت کے بعد عدالت نے عمران خان کی 10 لاکھ روپے مچلکے کے عوض ضمانت منظور کی۔

بشری بی بی نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ حلف دیں کہ آپ انصاف کریں گے، میں حلف دیتی ہوں ہم نے کوئی جرم نہیں کیا، دیکھیں کیسا انصاف ہے، جرم کے الزام میں ہم رائٹ سائیڈ پر کھڑے ہیں اور پراسیکیوشن لیفٹ سائیڈ پر، پورے پاکستان میں ناانصافی ہو رہی ہے۔

بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میرے کیسز کا فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا، مجھ سے جب 342 کا بیان لیا گیا اس کے بعد بات کرنے کاموقع ہی نہیں دیا گیا۔اس موقع پر صحافی نے کہا کہ سانحہ 9 مئی کی تمام فوٹیجز آن ریکارڈ موجود ہیں، ریگولر میڈیا نے اس کو لائیو دکھایا۔