Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

پیر کی دیر رات ایران نے عراق اور قطر میں امریکی فوجی اڈوں پر چھ میزائل داغے، جس سے خطے میں مزید کشیدگی بڑھ گئی۔ ایرانی میڈیا نے اس آپریشن کو فتح کا اعلان کا نام دیا۔ حالانکہ، امریکی پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم نے زیادہ تر میزائلوں کو روک دیا اور قطری اڈوں پر کوئی بڑا اثر نہیں ہوا۔

جموں وکشمیرکی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ایران پر اسرائیل اب حملے نہیں کرے گا۔ اس سے لگتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل چاہتے تھے کہ سیزفائرہو۔

قطر نے اس جنگ بندی کے مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کیا۔ رائٹرز کے مطابق، قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے ایرانی حکام سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور امریکی تجویز کردہ جنگ بندی پر ایران کی رضامندی حاصل کی۔

جوہری پلانٹس پرامریکی حملے کے بعد ایران مکمل طورپرحملہ کرنے کا پلان بنا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ایران 24 سے 48 گھنٹوں میں بڑا حملہ کرے گا۔ یہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر حملہ کرسکتا ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے مرکزی مجلس شوری کے اجلاس میں ایران پریکطرفہ اورجارحانہ امریکی حملے کی سخت مذمت کی گئی اور ایران کے عوام کے ساتھ یگانگت کا اظہارکیا گیا۔ جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کا یہ بحران دنیا بھر کے امن پسند اورانصاف پسند عوام کے لیے سخت تشویش اوراضطراب کا باعث ہے۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے نوبل امن انعام کمیٹی کو ایک سفارش نامہ بھی ناروے بھجوا دیا گیا ہے۔ تاہم، ایران کے فردو، اصفہان اور نطنز جوہری مقامات پر امریکی حملوں کے بعد اس فیصلے پر شدید تنقید ہو رہی ہے۔

اس حملے میں خاص طور پر B-2 اسپرٹ اسٹیلتھ بمبار اور F-22 ریپٹر جیٹس کا استعمال کیا گیا، جو ریڈار سے اوجھل رہنے کی اپنی صلاحیت کے لیے مشہور ہیں۔ B-2 بمبار طیاروں کا استعمال خاص طور پر ایران کے زیرِ زمین ایٹمی ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے کیا گیا۔

سیاسی تجزیہ کار اور کالم نگار رحیق عباسی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جس کی مغربی ممالک جنگی جرائم کی وجہ سے مخالفت کر رہے تھے، انہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان نے امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا ہے۔

دریں اثنا اسلام آباد نے اس تنازعے کو ختم کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس کے لیے سفارتی ذرائع استعمال کیے جائیں۔

محبوبہ مفتی نے بھارتی حکومت کے ردعمل پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ ہندوستان، جسے طویل عرصے سے بین الاقوامی معاملات میں تاریخی اور اصولی کردار ادا کرنے والے ملک کے طور پر دیکھا جاتا ہے، نہ صرف خاموش ہے بلکہ حملہ ور کے ساتھ کھڑا ہوتا نظر آ رہا ہے۔