Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

سیاسی تجزیہ کار اور کالم نگار رحیق عباسی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جس کی مغربی ممالک جنگی جرائم کی وجہ سے مخالفت کر رہے تھے، انہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان نے امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا ہے۔

دریں اثنا اسلام آباد نے اس تنازعے کو ختم کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس کے لیے سفارتی ذرائع استعمال کیے جائیں۔

محبوبہ مفتی نے بھارتی حکومت کے ردعمل پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ ہندوستان، جسے طویل عرصے سے بین الاقوامی معاملات میں تاریخی اور اصولی کردار ادا کرنے والے ملک کے طور پر دیکھا جاتا ہے، نہ صرف خاموش ہے بلکہ حملہ ور کے ساتھ کھڑا ہوتا نظر آ رہا ہے۔

ایران پر فضائی حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کا مقصد ایران کی ’جوہری افزودگی کی صلاحیت‘ کو تباہ کرنا تھا۔ ٹرمپ نے ملک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یا تو امن ہو گا یا سانحہ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی بہت سے اہداف باقی ہیں۔ اگر امن جلد نہ ہوا تو امریکہ دوسرے اہداف پر مزید درست حملے کرے گا۔

ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے ایران میں تین جوہری مقامات پر بمباری کی ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ جب تک وہ اسرائیل کے ساتھ تنازع ختم نہیں کرتا، وہ مزید درست حملے کرے گا۔ نشانہ بنائے گئے ان مقامات میں انتہائی محفوظ فورڈو، نطنز اور اصفہان جوہری تنصیبات شامل ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کو یو این چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ’’سنگین نتائج‘‘ سے خبردار کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو اب تنازع ختم کرنے پر راضی ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ انہوں نے ایران سے امن قائم کرنے کو کہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ایران نے ایسا نہیں کیا تو اس پر مزید بڑے حملے کیے جائیں گے۔

امریکہ نے اب ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں کھل کر مداخلت کی ہے۔ امریکی فضائیہ نے ایران کے تین بڑے جوہری مقامات فورڈو، نطنز اور اصفہان پر فضائی حملے کیے ہیں۔ اس حملے کو مکمل طور پر کامیاب قرار دیا گیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ جانکاری سوشل میڈیا سائٹ ’ٹرتھ‘ پر دی ہے۔

پاکستانی اخبار ڈان کے مطابق نامزدگی میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ تنازع میں ’’فیصلہ کن سفارتی کردار‘‘ ادا کیا اور ’’اعلیٰ قیادت‘‘ کا مظاہرہ کیا۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے دو ایٹمی طاقت رکھنے والے ممالک کے درمیان جنگ بندی میں ثالثی کا اہم کردار ادا کیا۔