امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 14 ممالک پر نئے تجارتی ٹیکس (ٹیرف) کے نفاذ کا اعلان کردیا ہے۔ سب سے زیادہ 40 فیصد ڈیوٹی میانمار اور لاؤس پر عائد کی گئی ہے۔ یہ نئے قوانین یکم اگست سے نافذ العمل ہوں گے۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ان ٹیرف کے بارے میں معلومات دیں۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے متعلق سرکاری خطوط تمام ممالک کے رہنماؤں کو بھیجے گئے ہیں۔ ٹرمپ نے اسے ٹیرف لیٹرز کی ایک نئی لہر قرار دیا۔ٹرمپ نے 14 ممالک کو بھیجے گئے سرکاری خطوط میں سخت لہجے میں خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے جوابی کارروائی کے طور پر امریکہ پر محصولات میں اضافہ کیا تو امریکہ بھی اتنی ہی مقدار میں ٹیکس اور مزید اضافہ کرے گا۔ انہوں نے واضح طور پر لکھا، ’’اگر آپ کسی بھی وجہ سے اپنے ٹیرف میں اضافہ کرتے ہیں، تو ہم اس پر اسی فیصد اضافی ٹیکس کا اضافہ کریں گے جو آپ نے بڑھایا ہوگا۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ یہ نئے ٹیرف برسوں پرانی غلط پالیسیوں کو درست کرنے کے لیے ضروری ہیں جنہوں نے امریکہ پر بھاری تجارتی خسارہ مسلط کیاہے۔ ٹرمپ کے مطابق ان پالیسیوں میں ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹیں شامل ہیں۔ ٹرمپ نے کہاکہ امریکہ پر یہ تجارتی خسارہ نہ صرف ہماری معیشت بلکہ قومی سلامتی کے لیے بھی بڑا خطرہ ہے۔حالانکہ جب وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ سے پوچھا گیا کہ ان دونوں ممالک کو پہلے کیوں چنا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ صدر کا اختیار ہے، انہوں نے صرف ان ممالک کا انتخاب کیا جنہیں وہ مناسب سمجھتے ہیں۔ کیرولین کا مزید کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کئی دوسرے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب ہے۔ انہوں نے کہاکہ صدر چاہتے ہیں کہ یہ سودے امریکہ کے لیے بہترین ثابت ہوں۔
کن ممالک پر کتنا ٹیکس؟
میانمار- 40فیصدی
لاؤ پیپلز ڈیموکریٹک ریپبلک (لاؤس) – 40فیصدی
کمبوڈیا- 36فیصدی
تھائی لینڈ- 36فیصدی
بنگلہ دیش- 35فیصدی
سربیا- 35فیصدی
انڈونیشیا- 32فیصدی
جنوبی افریقہ- 30فیصدی
بوسنیا اور ہرزیگووینا – 30فیصدی
جاپان- 25فیصدی
قازقستان – 25فیصدی
ملائیشیا- 25فیصدی
جنوبی کوریا- 25فیصدی
تیونس- 25فیصدی
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

