Bharat Express DD Free Dish

US Reciprocal Tariffs

جب ایک صحافی نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ چین روس سے تیل بھی خریدتا ہے تو پھر بھارت کو ہی کیوں نشانہ بنایا گیا، ٹرمپ نے واضح اشارہ دیا کہ ہم بھارت پر سیکنڈری سینکشن لگانے پر غور کر رہے ہیں۔ ایسا کئی دوسرے ممالک پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے، جس میں ایک چین بھئی ہو سکتا ہے۔

اس فیصلے کے ساتھ ہی ٹرمپ نے کینیڈین کمپنیوں کو امریکہ میں اپنے یونٹ لگانے کی پیشکش بھی کی۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ امریکہ میں کاروبار شروع کرنے کی خواہشمند کمپنیوں کو تیز، پیشہ ورانہ اور باقاعدہ منظوری مل جائے گی۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ یہ نئے ٹیرف برسوں پرانی غلط پالیسیوں کو درست کرنے کے لیے ضروری ہیں جنہوں نے امریکہ پر بھاری تجارتی خسارہ مسلط کیاہے۔ ٹرمپ کے مطابق ان پالیسیوں میں ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹیں شامل ہیں۔

ٹرمپ نے 2 اپریل کو امریکہ کے بیشتر تجارتی شراکت داروں پر 10 فیصد بیس لائن کے ساتھ بڑے پیمانے پر ٹیرف عائد کی تھی اور ان ممالک پر اونچی شرحیں عائد کی گئی جن کے ساتھ امریکہ کا تجارتی خسارہ سب سے زیادہ ہے۔ چین اور یورپی یونین کے ارکان جیسے ممالک پر زیادہ شرحیں عائد کی گئیں۔

تاہم، بھارت اور امریکہ کے تجارتی معاہدے کے بارے میں ابھی تک کوئی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔ تاہم ٹرمپ اپنے پچھلے دور اقتدار سے ہی اپنے مطالبات کے بارے میں کھل کر بات کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ٹرمپ کی دوستی سب کو معلوم ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو اچھے دوست کہتے ہیں۔ 'ہاؤڈی مودی' اور 'نمستے ٹرمپ' ریلیاں بھی اس کی مضبوط مثالیں مانی جاتی ہیں۔ لیکن ٹرمپ نے کئی مواقع پر ہندوستان کو ٹیرف کنگ کہا ہے۔

یورپی یونین نے پیر کو کچھ امریکی اشیاء پر 25 فیصد جوابی ٹیرف لگانے کی قرارداد پیش کی ہے۔ ہیرے، انڈے، ڈینٹل فلاس، پولٹری سمیت کئی چیزوں پر جوابی ٹیرف لگانے کی تیاری ہے۔