Bharat Express DD Free Dish

US court halts Trump’s ‘Liberation Day’ tariffs: امریکی عدالت نے ٹرمپ کے ’لبریشن ڈے‘ ٹیرف پر لگائی روک، دوبارہ شروع ہو سکتی ہے ہندو-پاک کے درمیان کشیدگی؟

ٹرمپ نے 2 اپریل کو امریکہ کے بیشتر تجارتی شراکت داروں پر 10 فیصد بیس لائن کے ساتھ بڑے پیمانے پر ٹیرف عائد کی تھی اور ان ممالک پر اونچی شرحیں عائد کی گئی جن کے ساتھ امریکہ کا تجارتی خسارہ سب سے زیادہ ہے۔ چین اور یورپی یونین کے ارکان جیسے ممالک پر زیادہ شرحیں عائد کی گئیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ایک بڑا جھٹکا دیتے ہوئے، ایک وفاقی تجارتی عدالت نے ان کے مجوزہ ’لبریشن ڈے‘ کے درآمدی ٹیرف کے نفاذ پر روک لگا دی ہے۔ عدالت نے یہ کہتے ہوئے روک لگائی ہے کہ ٹرمپ نے اپنے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔

مین ہٹن میں بین الاقوامی تجارت کی عدالت کے تین ججوں کے پینل نے بدھ کے روز طے کیا کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی سرپلس چلانے والے ممالک پر ٹرمپ کی ڈیوٹی انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) کے تحت صدر کو دیے گئے اختیارات کے دائرہ کار کی خلاف ورزی کرتی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے IEEPA کا حوالہ دے کر ٹیرف کا دفاع کرنے کی کوشش کی۔ عہدیداروں نے دعویٰ کیا کہ تجارتی عدم توازن (خاص طور پر چین اور یورپی یونین جیسے ممالک کے ساتھ) سے پیدا ہونے والے ملکی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ٹرمپ کی کارروائی ضروری تھی۔

انہوں نے عدالت کو متنبہ کیا کہ ٹیرف کو روکنے سے چین کے ساتھ جاری تجارتی امن مذاکرات کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور ممکنہ طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔ عدالتی فائلنگ میں، ٹرمپ کی قانونی ٹیم نے دلیل دی ہے کہ صدر نے جنوبی ایشیا کی صورت حال کو کم کرنے کے لیے اپنے ہنگامی اقتصادی اختیارات کو حکمت عملی کے ساتھ استعمال کیا ہے۔

ٹیکس دھمکیوں سے ہندو–پاک میں ہوئی جنگ بندی؟

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی ٹیکس دھمکیوں نے مئی میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے میں مدد کی، جو 22 اپریل کو جموں اور کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد طے پایا تھا، جس میں پاکستان میں مقیم عسکریت پسند شامل تھے۔ حالانکہ، بھارت کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا دونوں ممالک کے درمیان تنازع میں کوئی مداخلت نہیں تھی اور پاکستان نے بھارت پر فوجی کارروائی روکنے پر زور دیا۔ حکام نے عدالت کو بتایا کہ تجارتی مذاکرات نازک مرحلے پر ہیں۔ متعدد ممالک کے ساتھ زیر التواء معاہدوں کو حتمی شکل دینے کی آخری تاریخ 7 جولائی ہے۔

‘‘ صدر کو نہیں دیے گئے لامحدود اختیارات’’

عدالت نے کہا، ’’کانگریس نے IEEPA کے تحت صدر کو لامحدود اختیارات تفویض نہیں کیے تھے۔ آئین کانگریس کو غیر ملکی ممالک کے ساتھ تجارت کو منظم کرنے کا خصوصی اختیار دیتا ہے۔ یہ اختیار صرف اس لیے ختم نہیں ہوتا ہے کہ صدر ہنگامی اختیارات کا استعمال کرتے ہیں۔‘‘

فیصلے میں صرف قانون پر توجہ دی گئی

عدالت نے واضح کیا کہ اس کے فیصلے میں ٹیرف کے استعمال کی حکمت یا تاثیر کا جائزہ نہیں لیا گیا بلکہ صرف قانون پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ فیصلے کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ نے فوری نوٹس آف اپیل دائر کر دیا ہے، جس سے صدر کی قانونی جنگ جاری رہنے کا اشارہ ملتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک نے چھوڑا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ساتھ! لکھا- میرا وقت ہوا ختم…لیکن ٹرپم کو اس معاملے پر گھیرا

ٹرمپ نے 2 اپریل کو لگائی تھی ٹیرف

ٹرمپ نے 2 اپریل کو امریکہ کے بیشتر تجارتی شراکت داروں پر 10 فیصد بیس لائن کے ساتھ بڑے پیمانے پر ٹیرف عائد کی تھی اور ان ممالک پر اونچی شرحیں عائد کی گئی جن کے ساتھ امریکہ کا تجارتی خسارہ سب سے زیادہ ہے۔ چین اور یورپی یونین کے ارکان جیسے ممالک پر زیادہ شرحیں عائد کی گئیں۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read