Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

قطر نے اس جنگ بندی کے مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کیا۔ رائٹرز کے مطابق، قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے ایرانی حکام سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور امریکی تجویز کردہ جنگ بندی پر ایران کی رضامندی حاصل کی۔

جوہری پلانٹس پرامریکی حملے کے بعد ایران مکمل طورپرحملہ کرنے کا پلان بنا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ایران 24 سے 48 گھنٹوں میں بڑا حملہ کرے گا۔ یہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر حملہ کرسکتا ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے مرکزی مجلس شوری کے اجلاس میں ایران پریکطرفہ اورجارحانہ امریکی حملے کی سخت مذمت کی گئی اور ایران کے عوام کے ساتھ یگانگت کا اظہارکیا گیا۔ جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کا یہ بحران دنیا بھر کے امن پسند اورانصاف پسند عوام کے لیے سخت تشویش اوراضطراب کا باعث ہے۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے نوبل امن انعام کمیٹی کو ایک سفارش نامہ بھی ناروے بھجوا دیا گیا ہے۔ تاہم، ایران کے فردو، اصفہان اور نطنز جوہری مقامات پر امریکی حملوں کے بعد اس فیصلے پر شدید تنقید ہو رہی ہے۔

اس حملے میں خاص طور پر B-2 اسپرٹ اسٹیلتھ بمبار اور F-22 ریپٹر جیٹس کا استعمال کیا گیا، جو ریڈار سے اوجھل رہنے کی اپنی صلاحیت کے لیے مشہور ہیں۔ B-2 بمبار طیاروں کا استعمال خاص طور پر ایران کے زیرِ زمین ایٹمی ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے کیا گیا۔

سیاسی تجزیہ کار اور کالم نگار رحیق عباسی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جس کی مغربی ممالک جنگی جرائم کی وجہ سے مخالفت کر رہے تھے، انہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان نے امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا ہے۔

دریں اثنا اسلام آباد نے اس تنازعے کو ختم کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس کے لیے سفارتی ذرائع استعمال کیے جائیں۔

محبوبہ مفتی نے بھارتی حکومت کے ردعمل پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ ہندوستان، جسے طویل عرصے سے بین الاقوامی معاملات میں تاریخی اور اصولی کردار ادا کرنے والے ملک کے طور پر دیکھا جاتا ہے، نہ صرف خاموش ہے بلکہ حملہ ور کے ساتھ کھڑا ہوتا نظر آ رہا ہے۔

ایران پر فضائی حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کا مقصد ایران کی ’جوہری افزودگی کی صلاحیت‘ کو تباہ کرنا تھا۔ ٹرمپ نے ملک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یا تو امن ہو گا یا سانحہ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی بہت سے اہداف باقی ہیں۔ اگر امن جلد نہ ہوا تو امریکہ دوسرے اہداف پر مزید درست حملے کرے گا۔

ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے ایران میں تین جوہری مقامات پر بمباری کی ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ جب تک وہ اسرائیل کے ساتھ تنازع ختم نہیں کرتا، وہ مزید درست حملے کرے گا۔ نشانہ بنائے گئے ان مقامات میں انتہائی محفوظ فورڈو، نطنز اور اصفہان جوہری تنصیبات شامل ہیں۔