Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

وزیر اعظم مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کینیڈا میں G7 سربراہی اجلاس کے موقع پر ہونے والی تھی۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث ٹرمپ کو جلد امریکہ واپس آنا پڑا، جس کی وجہ سے یہ ملاقات نہ ہو سکی۔

ٹرمپ نے اپنی آخری پوسٹ میں ’غیر مشروط سرنڈر‘ لکھا ہے۔ امریکہ ایران سے غیر مشروط سرنڈر چاہتا ہے۔ ایسا نہ ہونے کی صورت میں اس کے خلاف بڑی کارروائی ہو سکتی ہے۔ امریکہ کا اصل ہدف ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای ہو سکتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے رپورٹوں کی تردید کی، جس میں کہا گیا کہ وہ جنگ بندی پرکام کرنے کے لئے جی-7 سربراہی اجلاس سے قبل واپس واشنگٹن گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تہران چھوڑنا ایرانیوں کے لئے بہترہوگا۔

ٹرمپ نے ’ٹرتھ‘ سوشل پر لکھا، ’’پبلسٹی سیکر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے غلطی سے کہا کہ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان ’جنگ بندی‘ پر کام کرنے کے لیے کینیڈا میں جی 7 سربراہی اجلاس سے واپس ڈی سی چلا گیا۔‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جی-7 سربراہی اجلاس درمیان میں ہی چھوڑکرچلے گئے۔ اب انہوں نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمینوئل میکرون پر بھی تنقید کی ہے۔

سربراہی اجلاس کے سرکردہ رہنماؤں نے کہا، "اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ ہم اس کی سلامتی کے لیے اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی بھی اس سربراہی اجلاس میں بطور مہمان رہنما شرکت کریں گے۔ یوکرین اور میکسیکو بھی G-7 کے رکن نہیں ہیں، لیکن دونوں ممالک کے سربراہان مملکت کو اس بار سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

جمعہ کے روز ٹرمپ نے کئی میڈیا آؤٹ لیٹس کو انٹرویوز دیے۔ اس دوران ٹرمپ نے بار بار ایران پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے مزید حملوں سے بچنے کے لیے جوہری معاہدہ کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ’یہ اور بھی سفاکانہ ہوگا۔‘

مسک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ صلح کے لیے تیار ہیں لیکن ذرائع نے بتایا کہ وہ بل میں اخراجات کو کم نہ کرنے پر فکر مند ہیں۔ انہوں نے یہ مسئلہ ریپبلکن مذاکرات کاروں کے ساتھ بات چیت میں بھی اٹھایا تھا۔

بدھ کے روز امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجیوں کے اہل خانہ کی مرضی سے واپسی کی منظوری دی۔ عراق سے عملے کو ہٹانے کے پیچھے سیکورٹی خدشات ابھی پوری طرح واضح نہیں ہیں۔