Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، بیشتر قومی بینک، وفاقی دفاتر اور یونائیٹڈ اسٹیٹس پوسٹل سروس جون ٹینتھ کے اعزاز میں بند رہے۔ حالانکہ والمارٹ، کوسٹکو، ٹارگٹ اور اسٹاربکس جیسے بڑے اسٹورز چھٹی کے دن بھی کھلے رہے۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف اپنی فوج بھیجی تو حالات مزید خراب ہوں گے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اسرائیل کوایک بارپھر سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے بہت بڑی بھول کی ہے اور وہ اس غلطی کی سزا ضرور پائے گا۔ ہم اپنے شہیدوں کے خون اوراپنے علاقے میں ہوئے حملوں کوکبھی نہیں بھولیں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اگرامریکہ نے کسی قسم کی مداخلت کی تو پورے خطے میں کھلی جنگ شروع ہو جائے گی۔

وزیر اعظم مودی نے پاک بھارت جنگ بندی کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ اس میں امریکہ کا کوئی کردار نہیں تھا۔ امریکی صدر کے ساتھ 35 منٹ کی بات چیت میں پی ایم مودی نے واضح طور پر کہا کہ ہندوستان نے کبھی بھی تیسرے فریق کی ثالثی کو قبول نہیں کیا ہے اور آئندہ بھی ایسی ثالثی کو قبول نہیں کرے گا۔ خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے میڈیا کو اس بات چیت کی جانکاری دی۔

سکریٹری خارجہ وکرم مسری کے مطابق، 35 منٹ کی بات چیت میں پی ایم مودی نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان نے کبھی ثالثی کو قبول نہیں کیا اور نہ ہی وہ اسے قبول کرے گا۔ صدر ٹرمپ نے پی ایم مودی کی طرف سے بتائی گئی باتوں کو تفصیل سے سمجھا اور دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی لڑائی کی حمایت کا اظہار کیا۔

وزیر اعظم مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کینیڈا میں G7 سربراہی اجلاس کے موقع پر ہونے والی تھی۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث ٹرمپ کو جلد امریکہ واپس آنا پڑا، جس کی وجہ سے یہ ملاقات نہ ہو سکی۔

ٹرمپ نے اپنی آخری پوسٹ میں ’غیر مشروط سرنڈر‘ لکھا ہے۔ امریکہ ایران سے غیر مشروط سرنڈر چاہتا ہے۔ ایسا نہ ہونے کی صورت میں اس کے خلاف بڑی کارروائی ہو سکتی ہے۔ امریکہ کا اصل ہدف ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای ہو سکتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے رپورٹوں کی تردید کی، جس میں کہا گیا کہ وہ جنگ بندی پرکام کرنے کے لئے جی-7 سربراہی اجلاس سے قبل واپس واشنگٹن گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تہران چھوڑنا ایرانیوں کے لئے بہترہوگا۔

ٹرمپ نے ’ٹرتھ‘ سوشل پر لکھا، ’’پبلسٹی سیکر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے غلطی سے کہا کہ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان ’جنگ بندی‘ پر کام کرنے کے لیے کینیڈا میں جی 7 سربراہی اجلاس سے واپس ڈی سی چلا گیا۔‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جی-7 سربراہی اجلاس درمیان میں ہی چھوڑکرچلے گئے۔ اب انہوں نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمینوئل میکرون پر بھی تنقید کی ہے۔