ٹرمپ نے نیتن یاہو کے حق میں پھر بلند کی آواز
واشنگٹن: امریکہ نے ایران کے ’جوہری مقامات‘ پر حملہ کیا ہے۔ اس حملے کے چند گھنٹے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو اور اسرائیلی فوج کا امریکہ کے ساتھ کام کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ ہفتہ کے روز (امریکی وقت کے مطابق)، ٹرمپ نے حملوں کے چند گھنٹے بعد میڈیا سے خطاب کیا۔ ٹرمپ نے نتن یاہو(انہیں اپنے عرفی نام سے ’بی بی‘ کہتے ہیں)۔ سے اظہار تشکر کیا
’’بی بی نیتن یاہو کا شکریہ اور مبارکباد‘‘
امریکی صدر نے کہا، ’’میں وزیر اعظم بی بی نیتن یاہو کا شکریہ اور مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔ ہم نے ایک ٹیم کے طور پر کام کیا، جیسا کہ شاید پہلے کبھی کسی ٹیم نے نہیں کیا ہے۔ ہم اسرائیل کے لیے اس خوفناک خطرے کو ختم کرنے کے لیے بہت آگے بڑھ چکے ہیں۔ میں اسرائیلی فوج کا ان کے شاندار کام کے لیے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے ایران میں تین جوہری مقامات پر بمباری کی ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ جب تک وہ اسرائیل کے ساتھ تنازع ختم نہیں کرتا، وہ مزید درست حملے کرے گا۔ نشانہ بنائے گئے ان مقامات میں انتہائی محفوظ فورڈو، نطنز اور اصفہان جوہری تنصیبات شامل ہیں۔
’’ایران کے لیے یا تو امن ہو گا، یا المیہ‘‘
ٹرمپ نے ایران پر فضائی حملے کے بعد کہا، ’’یہ تنازع جاری نہیں رہ سکتا۔ ایران کے لیے یا تو امن ہو گا، یا المیہ۔ یاد رکھیں، ابھی بہت سے اہداف باقی ہیں۔ ہفتے کی رات ان سبھی کے لیے مشکل تھی اور شاید سب سے زیادہ مہلک۔ اگر جلد امن قائم نہیں ہوتا ہے تو ہم ان دیگر اہداف پر بھی درستگی، رفتار اور مہارت کے ساتھ حملہ کریں گے۔‘‘
یہ بھی پڑھیں: بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے امریکی بمباری: ایرانی جوہری ایجنسی
صدر ٹرمپ نے زور دے کر کہا ہے کہ حملوں کا مقصد ایران کی ’جوہری افزودگی کی صلاحیت‘ کو کم کرنا اور دنیا کی نمبر 1 دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست سے پیدا ہونے والے جوہری خطرے کو روکنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ’’یا تو امن ہو گا یا تباہی…‘‘، ایران پر ’ایئر اسٹرائیک‘ کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی وارننگ
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو نے ایران پر حملوں کے لیے ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور کہا، ’’صدر ٹرمپ اور میں اکثر کہتے ہیں – ’طاقت کے ذریعے امن۔‘ پہلے طاقت آتی ہے، پھر امن آتا ہے اور ہفتے کی رات ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکہ نے بڑی طاقت سے کام کیا۔‘‘
ایران اسرائیل تنازعہ 13 جون کو شروع ہوا۔ اسرائیل نے ایران پر اچانک حملہ کیا۔ اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے ایک حفاظتی اقدام تھا۔ تنازعہ نے پورے خطے میں تناؤ بڑھا دیا ہے، جو اکتوبر 2023 سے غزہ میں اسرائیل کی طویل جنگ کے بعد پہلے سے ہی عروج پر ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


