Bharat Express DD Free Dish

Israel-Iran Tensions

آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کے بعد جانشین مجتبیٰ خامنہ ای کے پہلے عوامی خطاب کے ساتھ شائع ہونے والی فہرست نے نئی سفارتی کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔ ایرانی حکومت کی باضابطہ توثیق سامنے نہیں آئی ہے۔ فہرست میں کیراسٹارمر، ایمانوئل میکرون، جورجیا میلونی، فریڈرک مرز، مارکو روبیو، پیٹ ہیگستھ، بریڈ کوپر، مائیک ہکابی، ایال ضمیر اور گیدون سار شامل ہیں۔

ایران-اسرائیل تنازعہ کے درمیان پاکستان نے اشارہ دیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی معاہدے کی وجہ سے اس تنازعہ میں ملوث ہوسکتا ہے۔ وزیرخارجہ اسحاق ڈارنے ایران کو سعودی عرب پر حملہ کرنے سے خبردار کیا ہے۔ دریں اثنا، مشرق وسطیٰ میں میزائل حملے اور فوجی کارروائی میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے اوراس کا براہ راست اثر ہندوستان پر پڑ رہا ہے۔ وزارت خارجہ (ایم ای اے) نے نئی دہلی میں ایک 24 گھنٹے خصوصی کنٹرول روم قائم کیا ہے تاکہ جنگ کے علاقے میں پھنسے ہوئے ہزاروں ہندوستانیوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے اور ان کے اہل خانہ کو تمام معلومات فراہم کی جاسکیں۔

 اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کا برین واش کرکے امریکہ کو جنگ میں پہنچا دیا۔ خفیہ رپورٹس کے خلاف ٹرمپ نے اسرائیل کے دباو میں ایران پر حملہ کرکے بڑا سیاسی تنازعہ مول لے لیا ہے۔

امریکہ-اسرائیل کے مسلسل حملوں کے درمیان ایران میں ایک اورمصیبت آگئی ہے۔ آج ایران میں زلزلہ کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔ ایران پرامریکہ اوراسرائیل کے ساتھ قدرت کا بھی قہر دیکھنے کو ملا ہے۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس پر ایک بیان جاری ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ہندوستان کا سچا دوست ہے اورہندوستان کی خارجہ پالیسی روایتی طورپرایران کے ساتھ رہی ہے، لیکن موجودہ حکومت سفارتی ذمہ داری سے بھاگ رہی ہے۔

ایران-اسرائیل جنگ کے درمیان پاکستان کا ایران کے تئیں حمایت دیکھنے کو ملی ہے۔ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ-اسرائیل کے حملے میں ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔

امریکہ-اسرائیل کے ایران پرحملوں کے درمیان کئی ممالک نے اپنے ایئراسپیس بند کردیئے ہیں۔ ایئرانڈیا نے بتایا کہ آج یوروپ کے کئی شہروں کے لئے 6 پروازیں منسوخ رہیں گی۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر تھی، اور دونوں ممالک کی افواج ایک دوسرے کے خلاف براہ راست حملے کر چکی ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک نے حال ہی میں جنگ بندی کا اعلان کیا، لیکن اسرائیل کے اس نئے اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ دشمنی کی آگ اب بھی بھڑک رہی ہے۔

اقوام متحدہ، یورپی یونین اور دیگر عالمی طاقتوں نے اس بڑھتی ہوئی جنگ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بھارت سمیت کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو اسرائیل اور ایران کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ علاقائی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تنازع اب صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے پورے مشرق وسطیٰ کو جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔