پاکستان نے واضح طورپراشارہ دیا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی معاہدے کی وجہ سے اسے تیزی سے بڑھتی ہوئی ایران جنگ میں کھینچا جا سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے سعودی عرب کومیزائل اورڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ فنانشیل ٹائمزکی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے وزیرخارجہ اسحاق ڈارنے اپنے ایرانی ہم منصب کوسعودی عرب پرحملے کے خلاف خبردارکیا۔ اسحاق ڈارنے کہا کہ میں نے ایران کوسمجھایا ہے کہ ہمارا ایران کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب کسی سینئرپاکستانی اہلکارنے واضح طورپرکہا ہے کہ یہ دفاعی معاہدہ ایران جنگ میں فعال ہوسکتا ہے۔
“دوسرے ممالک کے مقابلے سعودی عرب پرہوئے کم حملے”
واضح رہے کہ امریکہ اوراسرائیل نے گزشتہ ہفتے ایران پرحملہ کیا تھا۔ اس کے بعد ایران نے امریکی فوجی اڈوں، سفارت خانوں اورتوانائی کے اہم مراکزپرحملہ کیا، جس سے کئی ممالک اس جنگ کی زد میں آگئے۔ اسحاق ڈارنے اس بات پرزوردیا کہ پاکستان- سعودی عرب سیکورٹی معاہدے نے ریاض کو ڈھال بنایا اوروہاں کسی بھی بڑے حملے کو روکا۔ انہوں نے کہا “سعودی عرب کودیگرتمام ممالک کے مقابلے میں سب سے کم حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔” اسحاق ڈار نے یہ بھی کہا کہ ایران نے اسلام آباد سے ضمانت مانگی ہے کہ سعودی سرزمین ایران کے خلاف حملوں کے لئے استعمال نہیں ہوگی۔
سعودی عرب-پاکستان پر NATO کی طرح معاہدہ
سعودی عرب اورپاکستان کے درمیان گزشتہ سال طے پانے والا معاہدہ نیٹو کی طرح کام کرتا ہے۔ ایک پرحملہ دوسرے پرحملہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ دونوں مسلم ممالک کے درمیان برسوں کے کشیدہ تعلقات کے بعد سیکورٹی تعاون کے لیے ایک نئی شروعات ہے۔ دریں اثنا، ایران نے جمعرات کی صبح اسرائیل پرمیزائل داغے، جس سے خطے میں مسلسل چھٹے دن فضائی حملے شروع ہوئے۔ اس سے قبل ایک امریکی آبدوزنے ایرانی جنگی جہازکوڈبودیا تھا، جس کے بعد ایران نے پورے خطے میں فوجی اوراقتصادی اہداف کوتباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


