امریکہ، اسرائیل اورایران کے درمیان جنگ کے درمیان وزارت خارجہ (ایم ای اے) نے ہندوستانی شہریوں کی سیکورٹی کے لئے اسپیشل کنٹرول روم قائم کیا ہے۔ ایم ای اے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایکس پراس کی جانکاری دی ہے۔ ہیلپ لائن نمبرجاری کئے گئے ہیں تاکہ پھنسے ہوئے ہندوستانی اس کی مدد لے سکیں۔ اس کنٹرول روم کا اہم مقصد جنگ متاثرہ علاقوں ایران، اسرائیل اورلبنان میں موجود ہندوستانی شہریوں کو ایمرجنسی امداد فراہم کرنا ہے۔ یہ سیل راست طورپرتہران (ایران) اورتل ابیب (اسرائیل) واقع ہندوستانی سفارت خانوں کے رابطے میں ہے۔ پھنسے ہوئے 37 جہازوں اور1100 سے زائد ملاحوں کی حالت پربھی نظررکھی جا رہی ہے۔
37 ہندوستانی جہازاور1109 ملاح پھنسے
ایران اوراسرائیل کے درمیان جاری تنازعہ نے سمندری تجارت کوشدید متاثرکیا ہے۔ آبنائے ہرمزکی بندش سے ہندوستانی پرچم والے 37 بحری جہازفارس اورعمان کی خلیجوں میں پھنس گئے ہیں۔ یہ بحری جہاز 1,109 ہندوستانی ملاحوں کو لے کرجا رہے ہیں، جوہندوستان کے لیے ضروری خام تیل اورایل این جی لے جا رہے ہیں۔ افسوسناک خبریہ ہے کہ حملے میں تین بھارتی ملاح ہلاک ہوگئے ہیں۔ صورت حال کے جواب میں، جہازرانی کی وزارت نے ایک “کوئیک رسپانس ٹیم” تشکیل دی ہے۔ وزیراعظم نریندرمودی ذاتی طورپرصورتحال پرنظررکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ دو دنوں کے دوران 8 خلیجی ممالک (سعودی عرب، بحرین، اردن، عمان، قطر، کویت وغیرہ) کے سربراہان مملکت سے فون پر بات کی ہے۔
ہوائی سفرپر بریک، 750 سے زیادہ پروازیں منسوخ
جنگ کی وجہ سے ہوائی شاہراہ بند ہونے سے ہندوستان آنے اورجانے والی بین الاقوامی پروازوں پربڑا اثرپڑا ہے۔ گزشتہ دودنوں میں 760 سے زیادہ انٹرنیشنل فلائٹس منسوخ ہوچکی ہیں۔ دہلی، ممبئی اوربنگلوروجیسے بڑے ایئرپورٹس پرمسافروں کی بھاری بھیڑہے۔ راحت کی بات یہ ہے کہ ایئرانڈیا اورانڈیگو جدہ اوردبئی سے ہندوستانیوں کو واپس لانے کے لئے اسپیشل فلائٹس چلا رہے ہیں۔
کشمیرمیں احتجاج اورسیکورٹی کے انتظامات
ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد جموں وکشمیرکے کچھ حصوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ سری نگر، پونچھ، راجوری وغیرہ علاقوں میں احتجاج دیکھے گئے، جس کے سبب انٹرنیٹ اسپیڈ کم کی گئی اورسیکورٹی سخت کردی گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


