امریکہ اوراسرائیل کے حملوں اورجنگ کے درمیان آج سہ پہرایران میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے۔ امریکی جیولوجیکل سروے (یوایس جی ایس) کے مطابق، ایران کے جنوبی علاقے گیراش میں 4.3 شدت کا زلزلہ آیا۔ زلزلے کا مرکز زمین سے تقریباً 10 کلومیٹرنیچے تھا۔ کچھ رپورٹس میں اس کی شدت 4.5 بتائی گئی ہے، لیکن سرکاری یوایس جی ایس ڈیٹا 4.3 ہے۔
میزائل حملوں کے درمیان زلزلہ سے دہشت
زلزلے کے جھٹکے صوبہ فارس میں محسوس کئے گئے، جہاں لوگ جنگ کی وجہ سے پہلے ہی تناؤمیں تھے۔ دھماکوں اوربم دھماکوں کے ساتھ آنے والے زلزلے نے بڑے پیمانے پرخوف و ہراس پھیلا دیا۔ بہت سے لوگ گھروں سے باہرنکل آئے اورکچھ نے سوشل میڈیا پرویڈیوزشیئرکیں۔ ابھی تک، بڑے نقصان، موت، یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ یوایس جی ایس نے کہا کہ یہ علاقہ پہلے سے ہی زلزلے کے لحاظ سے ایک فطری (نیچرل) زلزلہ زون ہے، اس لیے یہ قدرتی ٹیکٹونک سرگرمی معلوم ہوتی ہے۔
سوشل میڈیا پرنیوکلیئرٹسٹ سے اٹھے سوال
سوشل میڈیا پرافواہیں پھیل رہی ہیں کہ کہیں یہ ایران کا نیوکلیئر ٹسٹ تونہیں ہے؟ کیونکہ جنگ میں ایران کے نیوکلیئرسائٹس پرحملے ہورہے ہیں۔ تاہم ماہرین اور یوایس جی ایس نے اسے واضح کیا ہے کہ 4.3 میگریٹیوڈ کا زلزلہ نیوکلیئرٹسٹ جیسا نہیں ہوتا۔ ٹسٹ میں عام طورپرزیادہ تیزی اورالگ پیٹرن ہوتا ہے۔ یہ علاقہ ایران میں زلزلوں کے لئے جانا جاتا ہے، جہاں سال میں کئی چھوٹے موٹے جھٹکے آتے رہتے ہیں۔
ایران پر قدرت کا بھی قہر
یہ حادثہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب تہران میں امریکہ-اسرائیل کی ایئراسٹرائیک جاری ہے۔ ایران نے ہومرزاسٹریٹ بند کرنے کی دھمکی دی ہے اورخلیجی ممالک میں ڈرون-میزائل حملے ہو رہے ہیں۔ ہلاکتوں کی کل تعداد 1200 سے تجاوزکرگئی ہے۔ تیل کی قیمتیں 150 ڈالرفی بیرل سے اوپرہیں۔ اگرچہ فی الحال کوئی بڑا اثرنظرنہیں آ رہا ہے، لیکن جنگ اورقدرتی آفات کا امتزاج صورت حال کومزید خراب کرسکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
