Bharat Express DD Free Dish

Israel-Iran Tensions

ایران پر فضائی حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کا مقصد ایران کی ’جوہری افزودگی کی صلاحیت‘ کو تباہ کرنا تھا۔ ٹرمپ نے ملک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یا تو امن ہو گا یا سانحہ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی بہت سے اہداف باقی ہیں۔ اگر امن جلد نہ ہوا تو امریکہ دوسرے اہداف پر مزید درست حملے کرے گا۔

ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے ایران میں تین جوہری مقامات پر بمباری کی ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ جب تک وہ اسرائیل کے ساتھ تنازع ختم نہیں کرتا، وہ مزید درست حملے کرے گا۔ نشانہ بنائے گئے ان مقامات میں انتہائی محفوظ فورڈو، نطنز اور اصفہان جوہری تنصیبات شامل ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو اب تنازع ختم کرنے پر راضی ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ انہوں نے ایران سے امن قائم کرنے کو کہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ایران نے ایسا نہیں کیا تو اس پر مزید بڑے حملے کیے جائیں گے۔

گزشتہ دو سالوں میں دنیا کے مختلف حصوں میں ہونے والی جنگوں اور تنازعات نے نہ صرف سفارتی ناکامیوں کو بے نقاب کیا ہے بلکہ انسانیت کے وجود پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

آئی ڈی ایف نے کہا کہ ایران کے جوہری ہتھیاروں کے منصوبے کو نقصان پہنچانے کی اپنی کارروائی کے تحت تہران میں ایس پی این ڈی کے ہیڈ کوارٹر کی عمارت پر بھی حملہ کیا گیا۔ IDF نے کہا، ’’SPND ہیڈکوارٹر کو ایران کی فوجی صلاحیتوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کی تحقیق اور ترقی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جسے 2011 میں ایران کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے بانی فخری زادہ نے قائم کیا تھا۔‘‘

ان قیاس آرائیوں کو اس وقت تقویت ملی جب ایک ویب سائٹ نے کچھ سیٹلائٹ تصاویر جاری کیں، جن میں قطر کے العدید ایئربیس پر موجود امریکی فوجی طیارے — جیسے USAF C-130، C-17، انٹیلیجنس-سرویلنس-ریکونیسنس (ISR) پلیٹ فارمز، اور ایندھن کے ٹینکرز — کے ساتھ ساتھ بحرین میں تعینات امریکی بحری جہازوں کی واپسی بھی دکھائی گئی۔

اقوام متحدہ سلامتی کونسل (یواین ایس سی) میں اسرائل-ایران جنگ سے متعلق ایک ایمرجنسی میٹنگ بلائی گئی ہے۔ ایران نے میٹنگ کی گزارش کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں امریکہ کی راست شراکت ہے اور اس کی وجہ سے صورتحال خطرناک شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔

کانگریس لیڈر سریندر راجپوت نے پی ایم مودی کے کینیڈا دورے پر بھی تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ وزیر اعظم مودی کو جی-7 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم مودی کو کینیڈین وزیر اعظم کو بتانا ہو گا کہ آپ کو سکھ علیحدگی پسندوں کے بارے میں اپنا رویہ بدل کر انہیں ہندوستان کے حوالے کرنا ہو گا۔

اسرائیل ڈیفنس فورس (IDF) نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے اسرائیل کی سرزمین پر میزائل حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان ہفتوں کی بڑھتی دشمنی کے بعد بڑھتی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے۔ اسرائیلی حکام نے ملک کو ہائی الرٹ پر رکھا ہوا ہے۔

ایران کے مستقل نمائندہ امیر سعید ایرانی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے حملے کا مقصد ’سفارت کاری کو ختم کرنا، مذاکرات کو ناکام بنانا اور خطے کو وسیع تر تنازعے میں گھسیٹنا‘ تھا۔ اس کے ساتھ انہوں نے واشنگٹن پر اسرائیلی حملوں میں ملی بھگت کا بھی الزام لگایا ہے۔ وہیں، میک کوئے پٹ نے اس بات کی تردید کی ہے کہ امریکہ اس حملے میں ملوث تھا، حالانکہ اسے پہلے سے ہی اس بارے میں اطلاع دی گئی تھی۔