کانگریس لیڈر سریندر راجپوت
لکھنؤ: کانگریس لیڈر سریندر راجپوت نے اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کی صورت حال کے مد نظر بھارتی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری کو افسوس ناک قرار دیا۔ خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو ایسی ایڈوائزری جاری کرنے سے بچنا چاہئے۔ کانگریس لیڈر نے کہا، ’’یہ حکومت کا فرض ہونا چاہئے کہ وہ مصیبت میں پھنسے اپنے شہریوں کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرے۔ لیکن، مرکزی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایڈوائزری کو کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کیا جا سکتا ہے۔‘‘
’’ایران کو لے کر جاری ایڈوائزری افسوسناک‘‘
انہوں نے بی جے پی کے اس دعوے پر بھی سوال اٹھایا کہ مودی حکومت نے یوکرین میں پھنسے ہندوستانی طلباء کو بحفاظت نکالنے کے لیے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ رکوا دی تھی۔ راجپوت نے تاریخ یاد دلاتے ہوئے موجودہ صورت حال پر بات کی۔ انہوں نے کہا، ’’ایران کے حوالے سے جس قسم کی ایڈوائزری جاری کی گئی ہے وہ افسوسناک ہے۔ مرکزی حکومت کو اپنی ذمہ داری سے بچنا نہیں چاہئے ، بلکہ اس سے پورا کرنا چاہئے ۔‘‘
’’ہم نے صرف ایک جارح ملک کی مخالفت کی‘‘
اس کے علاوہ کانگریس لیڈر نے اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے حوالے سے خارجہ پالیسی پر اپنا موقف واضح کیا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے کسی کی حمایت نہیں کی، ہم نے صرف ایک جارح ملک کی مخالفت کی ہے۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اسرائیل نے پہلے ایران پر حملہ کیا، اس کی سرزمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، تہران پر بمباری کی، ہم نے کچھ نہیں کیا، ہم نے صرف اپنی مروجہ خارجہ پالیسی پر عمل کیا ہے، جس طرح سے اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا ہے، اسے دیکھتے ہوئے ایران کو بھی جواب دینے کا پورا حق ہے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ ایران کو اس وقت تحمل سے کام لینا ہوگا۔‘‘
’’ہمیں وزیر اعظم مودی سے بہت امیدیں ہیں‘‘
سریندر راجپوت نے پی ایم مودی کے کینیڈا دورے پر بھی تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم سب جانتے ہیں کہ وزیر اعظم مودی کو جی-7 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم مودی کو کینیڈین وزیر اعظم کو بتانا ہو گا کہ آپ کو سکھ علیحدگی پسندوں کے بارے میں اپنا رویہ بدل کر انہیں ہندوستان کے حوالے کرنا ہو گا۔ یقینی طور پر ہمیں وزیر اعظم مودی سے بہت امیدیں ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ وہ تاریخ رقم کریں گے، لیکن اگر وہ تاریخ نہیں رقم کرتے ہیں تو ہندوستان کی عوام انہیں تاریخ میں بالکل یاد نہیں کرے گی۔‘‘
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



