تل ابیب: اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے درمیان ہفتے کے روز اسرائیل پر حملے کیے گئے جس میں کم از کم دو افراد ہلاک ہو گئے۔ ان کے علاوہ 34 افراد زخمی ہوئے۔ میگن ڈیوڈ ایڈوم (ایم ڈی اے) ایمرجنسی میڈیکل سروس نے ایران کی طرف سے داغے گئے حالیہ بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق کی ہے۔ ایم ڈی اے کے مطابق ان حملوں میں بھاری نقصان ہوا ہے۔ طبی ٹیم زخمیوں کو جان بچانے والے علاج فراہم کر رہی ہے اور انہیں قریبی اسپتالوں میں لے جا رہی ہے۔
دو افراد شدید زخمی، 16 کو معمولی چوٹ
ایجنسی نے ایک دفتری بیان میں کہا، ’’ایم ڈی اے کی ٹیموں نے لائف سیونگ میڈیکل ٹریٹمنٹ دے کر 21 زخمیوں کو وولفسن، شیبا تیل ہاشومر اور شامیر-آساف ہاروفہ اسپتالوں میں منتقل کیا۔‘‘ ہلاک ہونے والوں میں ایک 60 سالہ خاتون بھی شامل ہے۔ 45 سال کے قریب ایک شخص کو بچانے کی کوشش کی گئی لیکن بعد میں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔ ایک اور خاتون جس کی عمر 60 سال کے لگ بھگ ہے شدید زخمی ہو گئی ہے۔ دو افراد شدید زخمی ہوئے ہیں، جبکہ 16 افراد کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔‘‘ ایم ڈی اے نے بتایا کہ بے اینگزائٹی سے متاثر متعدد افراد کو بھی جائے وقوعہ سے نکال لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی حملے سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنے میں مل سکتی ہے مدد: ٹرمپ
اسرائیل میں ہائی الرٹ پر ہنگامی خدمات
اسرائیل ڈیفنس فورس (IDF) نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے اسرائیل کی سرزمین پر میزائل حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان ہفتوں کی بڑھتی دشمنی کے بعد بڑھتی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے۔ اسرائیلی حکام نے ملک کو ہائی الرٹ پر رکھا ہوا ہے۔ کئی شہری مراکز اور حساس علاقوں میں اضافی حفاظتی اقدامات نافذ کیے گئے ہیں۔ اسرائیلی حکومت اور سیکورٹی ادارے صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ خطرات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی خدمات ہائی الرٹ پر ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



