Bharat Express DD Free Dish

Iran-Israel situation

پیر کی دیر رات ایران نے عراق اور قطر میں امریکی فوجی اڈوں پر چھ میزائل داغے، جس سے خطے میں مزید کشیدگی بڑھ گئی۔ ایرانی میڈیا نے اس آپریشن کو فتح کا اعلان کا نام دیا۔ حالانکہ، امریکی پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم نے زیادہ تر میزائلوں کو روک دیا اور قطری اڈوں پر کوئی بڑا اثر نہیں ہوا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو اب تنازع ختم کرنے پر راضی ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ انہوں نے ایران سے امن قائم کرنے کو کہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ایران نے ایسا نہیں کیا تو اس پر مزید بڑے حملے کیے جائیں گے۔

اسرائیل اورایران کے درمیان چل رہی جنگ کے درمیان ہندوستان کا ایک گاؤں اچانک سرخیوں میں چھا گیا ہے۔ اس گاؤں کا اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی کے ساتھ رشتہ ہے۔ آئیے آج ہم آپ کو بتاتے ہیں۔

ایران کے ذریعہ اسرائیل کے بیرشیبا کے سوروکا اسپتال پرکئے گئے حملے کے بعد اسرائیل کے وزیردفاع نے ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای پرسیدھا حملہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ وزیردفاع کیٹز کے مطابق ایران نے جنگی جرم کیا ہے اوراس کے لئے راست طورپر آیت اللہ علی خامنہ ای ذمہ دارہیں۔ ہم اب ان کو ہی ختم کردیں گے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اسرائیل کوایک بارپھر سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے بہت بڑی بھول کی ہے اور وہ اس غلطی کی سزا ضرور پائے گا۔ ہم اپنے شہیدوں کے خون اوراپنے علاقے میں ہوئے حملوں کوکبھی نہیں بھولیں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اگرامریکہ نے کسی قسم کی مداخلت کی تو پورے خطے میں کھلی جنگ شروع ہو جائے گی۔

 ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تل ابیب میں موجود موساد کے ہیڈ کوارٹرکومیزائل حملے میں تباہ کردیا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق، یہ کارروائی اسرائیل کے خلاف جوابی حملوں کے تحت کی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، موساد کی سرگرمیوں کو چلانے والا یہ اہم مرکز پوری طرح برباد ہوگیا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے رپورٹوں کی تردید کی، جس میں کہا گیا کہ وہ جنگ بندی پرکام کرنے کے لئے جی-7 سربراہی اجلاس سے قبل واپس واشنگٹن گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تہران چھوڑنا ایرانیوں کے لئے بہترہوگا۔

امریکہ نے ایران کو وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سبھی لوگوں کو تہران خالی کردینا چاہئے۔ وہیں دوسری طرف اسرائیل کے کئی شہروں میں دھماکے کی خبر ملی ہے۔ تل ابیب کے شمال میں ہرجلیا میں خطرناک دھامکہ ہوا ہے۔ 

ایران کے ایک میزائل نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں امریکی سفارت خانہ کو نشانہ بنایا، جس سے عمارت کے ایک حصے کو نقصان ہوا۔ امریکی سفیر نے تصدیق کی ہے کہ سفارت خانہ کو نقصان ہوا ہے، لیکن سبھی اہلکار محفوظ ہیں۔ ایران کے اس حملے نے مشرق وسطیٰ کے اس جنگ کو مزید تیز کردیا ہے۔

اسرائیل ڈیفنس فورس (IDF) نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے اسرائیل کی سرزمین پر میزائل حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان ہفتوں کی بڑھتی دشمنی کے بعد بڑھتی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے۔ اسرائیلی حکام نے ملک کو ہائی الرٹ پر رکھا ہوا ہے۔