Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

جو بائیڈن کی بیماری کے بارے میں جاننے کے بعد دیگر امریکی رہنماؤں نے بھی ردعمل کا اظہار کیا۔

حالانکہ، ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک ایسے معاہدے سے گریز کرنا چاہتے ہیں جو جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (JCPOA) کی طرح ہو، جس پر باراک اوباما کے دور میں اتفاق ہوا تھا۔ اس میں یورپی یونین اور چین بھی شامل تھے۔ ٹرمپ نے 2018 میں جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن سے دستبرداری اختیار کی اور تہران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں۔

خاص طور پر بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی پر ان کے دعووں اور پھر یوٹرن نے ان کے بیانات پر بھروسہ کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ صرف دو دنوں یعنی 48 گھنٹوں میں امریکی صدر نے بھارت سے متعلق دو بڑے جھوٹ بولے۔ ایک جھوٹ سیز فائر کے بارے میں اور دوسرا ٹیرف وار سے متعلق۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ اگر روس جنگ بندی پر راضی نہیں ہوتا تو مغرب کو سخت پابندیوں کا سہارا لینا چاہیے۔

ٹرمپ کے خلیجی ممالک (قطر، سعودی عرب، اور متحدہ عرب امارات) کے دورے کے دوران غزہ کا بحران سفارتی بات چیت کا اہم موضوع رہا۔ مصر نے حال ہی میں ٹرمپ کے دورے سے قبل غزہ میں جنگ بندی کے لیے ایک نئی امریکی تجویز موصول کی۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے تجارت روکنے کی دھمکی دے کر بھارت اور پاکستان کو جنگ بندی پر رضامند ہونے پر مجبور کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے دونوں ممالک کو بتایا کہ میں نے بہت مدد کی۔ ہم نے تجارت میں مدد کی۔

ہندوستان کے کئی ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ کا یہ قدم اس کی دوہری پالیسی کو بے نقاب کرتا ہے۔ ایک طرف وہ ہندوستان کو QUAD جیسے فورمز پر اسٹریٹجک پارٹنر کہتا ہے اور دوسری طرف پاکستان کی حمایت کرنے والے ملک کو اسلحہ فراہم کرتا ہے۔

ہندوستان میں کئی اسٹریٹجک ماہرین اور سیکورٹی تجزیہ کاروں نے اس معاہدے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ ہم ایران کے ساتھ طویل المدتی امن کے لیے بہت سنجیدہ مذاکرات کر رہے ہیں، مشرق وسطیٰ کے دورے میں خلیجی ملک میں موجودگی کے دوران انہوں کہا کہ ہم ایران کے معاملے میں ایک معاہدہ کرنے کے قریب ہیں۔

ڈونالڈ ٹرمپ کے بیان پر میڈیا کے سوالوں  کا جواب دیتے ہوئے وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے واضح کیا تھاکہ 'پاکستان کے ساتھ سیز فائر معاہدے کے دوران ہندوستانی اور امریکی قیادت رابطے میں تھی، لیکن تجارت پر کوئی بات نہیں ہوئی۔