Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

ایک اسرائیلی اہلکار اور اس معاملے سے واقف ایک امریکی ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ مجوزہ معاہدے میں نہ صرف 60 دن کی جنگ بندی شامل ہے بلکہ 10 زندہ یرغمالیوں اور 18 مردہ یرغمالیوں کی باقیات کے حوالے کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

ٹرمپ نے 2 اپریل کو امریکہ کے بیشتر تجارتی شراکت داروں پر 10 فیصد بیس لائن کے ساتھ بڑے پیمانے پر ٹیرف عائد کی تھی اور ان ممالک پر اونچی شرحیں عائد کی گئی جن کے ساتھ امریکہ کا تجارتی خسارہ سب سے زیادہ ہے۔ چین اور یورپی یونین کے ارکان جیسے ممالک پر زیادہ شرحیں عائد کی گئیں۔

حکومتی عہدہ چھوڑتے ہوئے ایلون مسک نے کہا کہ اب میں مکمل طور پر ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے لیے وقف ہوں۔ میں اپنے سیاسی اخراجات کو بھی کم کروں گا، کیونکہ مجھے یقین ہے کہ میں نے اپنا حصہ ڈالا ہے۔ ان کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ وہ سیاست سے کنارہ کش ہو کر اپنی کمپنیوں پر توجہ مرکوز کریں گے۔

ٹرمپ کے مطابق اس نظام کی تکمیل 2029 تک ہو جائے گی اور اس کی لاگت تقریباً 175 بلین ڈالر ہوگی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کینیڈین حکومت نے اس پروگرام میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے، لیکن اسے اپنا ’مناسب حصہ‘ ادا کرنا ہوگا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی اور امن معاہدے کی کوششوں کے درمیان منگل کے روز روسی صدر ولادیمیر پوتن کی یوکرین کے خلاف مسلسل فوجی کارروائی پر سخت سرزنش کی۔

حماس نے اس تجویز پر مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے، لیکن مذاکرات ابھی جاری ہیں، اور کچھ اہم نکات پر اتفاق رائے باقی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کا مطالبہ ایک بڑی رکاوٹ ہے، جسے حماس نے "سرخ لکیر" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

وکیل نے بتایا کہ انہوں نے 25 جنوری سے 4 اپریل 2025 کے درمیان 5,93,240 روپے جمع کرائے، لیکن کوئی منافع حاصل نہ ہوا۔ ہاویری میں کم از کم 15 افراد اس دھوکہ دہی کا شکار ہوئے، جبکہ دیگر شہروں جیسے بنگلور، تماکورو اور منگلورو سے بھی ایسی ہی شکایات سامنے آئیں۔

کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ اس سے این ایس سی کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے اور یہ ٹرمپ کی ترجیحات پر عملدرآمد کے لیے صدارتی اختیارات کو مضبوط کرنے کی کوشش ہے۔ تاہم، اس اقدام پر تنقید بھی ہو رہی ہے کہ یہ قومی سلامتی کے ادارے کو کمزور کر سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ٹیرف کی دھمکیاں روکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ تازہ ٹیرف دھمکی امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے ملک کی ہی کمپنی ایپل کو دی ہے۔

ہارورڈ کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق ہر سال 500 سے 800 ہندوستانی طلباء یہاں داخلہ لیتے ہیں۔ دنیا بھر سے تقریباً 6800 طلباء یہاں آتے ہیں۔ اس سال 788 ہندوستانی طلباء نے داخلہ لیا۔