وزیر اعظم نریندر مودی کینیڈا کے کیلگری پہنچ گئے ہیں۔ یہاں وہ 51ویں G-7 سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب دنیا میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ وزیراعظم نے قبرص کا دورہ مکمل کیا، جہاں انہوں نے قبرص کے صدر نیکوس کرسٹوڈولائڈز سے تفصیلی بات چیت کی۔ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے پر بات چیت ہوئی۔
وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر اس دورے کو “یادگار” قرار دیا اور پی ایم مودی نے بھی قبرص کے صدر اور وہاں کے لوگوں کی گرمجوشی اور شاندار مہمان نوازی کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم مودی ان دنوں چار روزہ تین ملکوں کے دورے پر ہیں ،جس میں قبرص، کینیڈا اور کروشیا شامل ہیں۔ G-7 سربراہی اجلاس کے بعد ان کا اگلا پڑاؤ کروئیشاہوگا۔
G7 سربراہی اجلاس البرٹا صوبے کے کناناسکس میں منعقد ہو رہا ہے۔
اس سال G-7کا سربراہی اجلاس کینیڈا کے البرٹا صوبے کے کناناسکس میں منعقد ہو رہا ہے۔ یہ تقریب ایک ایسے وقت میں منعقد ہو رہی ہے، جب دنیا کے کچھ ممالک کھل کر ایک دوسرے کے خلاف میدان جنگ میں اتر چکے ہیں۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع اور روس یوکرین جنگ کے پس منظر میں اس ملاقات کو بہت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
کینیڈین وزیراعظم سے دوطرفہ مذاکرات کا امکان
وزیر اعظم مودی کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی اور کئی دوسرے G-7 اور مدعو ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کرنے والے ہیں۔ کارنی کا مودی کو جی 7 سربراہی اجلاس میں مدعو کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ کینیڈا کی نئی حکومت ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کا ارادہ رکھتی ہے، جو خالصتانی علیحدگی پسند ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے بعد کافی کشیدہ ہو گئے تھے۔
کیا پی ایم مودی ٹرمپ سے نہیں مل پائیں گے؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمٹ کو درمیان میں چھوڑ کر کچھ دیر میں واپس امریکا پہنچ جائیں گے۔ وائٹ ہاؤس نے منگل کی صبح کہا کہ ٹرمپ نے یہ فیصلہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث لیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے پیر کو کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے پیر کی رات G-7 سربراہی اجلاس سے ایک دن پہلے نکل جائیں گے۔ ایسے میں ٹرمپ کی پی ایم مودی سے ملاقات کے امکانات بہت کم ہیں۔
عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا
وزارت خارجہ نے پہلے مطلع کیا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی جی 7 ممالک کے سربراہان، مدعو ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ توانائی کی حفاظت، ٹیکنالوجی اور اختراع، اے آئی اور توانائی کی ہم آہنگی اور کوانٹم ٹیکنالوجی جیسے اہم عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے۔
جی 7 سربراہی اجلاس میں پی ایم مودی کا خطاب
وزیر اعظم مودی منگل کی سہ پہر منعقد ہونے والی G-7 آؤٹ ریچ چوٹی کانفرنس میں شرکت کریں گے اور وہاں اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ اس سمٹ کا فوکس تین اہم موضوعات پر ہو گا:
دنیا بھر میں کمیونٹیز کی حفاظت
توانائی کی حفاظت اور ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرنا
مستقبل کی شراکت کو محفوظ بنانا
آپریشن سندور کے بعد پی ایم مودی کا پہلا غیر ملکی دورہ
یہ سربراہی اجلاس وزیر اعظم نریندر مودی کی پہلی کثیرالجہتی موجودگی ہے، جو مئی میں پاکستان میں انسداد دہشت گردی آپریشن ‘آپریشن سندور’ کی کامیابی کے بعد ہو رہی ہے۔
یوکرین اور میکسیکو کے رہنما بھی شرکت کریں گے
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی بھی اس سربراہی اجلاس میں بطور مہمان رہنما شرکت کریں گے۔ یوکرین اور میکسیکو بھی G-7 کے رکن نہیں ہیں، لیکن دونوں ممالک کے سربراہان مملکت کو اس بار سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

