امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ۔ (فائل فوٹو)
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کو ان کے حالیہ بیانات پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ میکرون نے کہا تھا کہ امریکی صدر اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر کام کرنے کے لیے گروپ آف سیون (جی 7) کے سربراہی اجلاس سے جلد نکل گئے۔ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ سربراہی اجلاس سے ان کی جلد چلے جانے سے اسرائیل ایران تنازعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ٹرمپ نے ’ٹرتھ‘ سوشل پر لکھا، ’’پبلسٹی سیکر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے غلطی سے کہا کہ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان ’جنگ بندی‘ پر کام کرنے کے لیے کینیڈا میں جی 7 سربراہی اجلاس سے واپس ڈی سی چلا گیا۔‘‘
اس نے کہا، ’’غلط! وہ نہیں جانتے کہ میں اب واشنگٹن کیوں جا رہا ہوں، لیکن اس کا یقیناً جنگ بندی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس سے بھی زیادہ بڑی بات، چاہے جان بوجھ کر ہو یا نادانشتہ طور پر، ایمانوئل ہمیشہ غلط ہوتے ہیں۔ دیکھتے رہئے!‘‘
جی 7 سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے میکرون نے کہا تھا کہ ٹرمپ ایران اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کے امکانات پر غور کر رہے تھے، کیونکہ امریکی لیڈر نے جلد باہر نکلنے کا اعلان کیا تھا۔
میکرون نے کہا، ’’درحقیقت، ایک میٹنگ اور بات چیت کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ خاص طور پر، جنگ بندی اور پھر ایک وسیع ڈائیلاگ شروع کرنے کے لیے یہ تجویز پیش کی گئی ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ دونوں فریق اس پر آگے بڑھتے ہیں یا نہیں۔‘‘
اسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے میکرون نے مزید کہا، ’’ابھی، میں سمجھتا ہوں کہ بات چیت کو دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘
’’حالات میں فوری تبدیلی کی توقع نہیں‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’انہیں صورت حال میں فوری تبدیلی کی توقع نہیں ہے لیکن ’امریکہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ جنگ بندی کا راستہ تلاش کر لے گا اور ان کے پاس اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی صلاحیت ہے، اس لیے حالات بدل سکتے ہیں۔‘‘
ٹرمپ نے جلد واپسی کا کیا تھا اعلان
اس سے قبل، ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ جی7 سربراہی اجلاس میں اپنی شرکت کو کم کر رہے ہیں اور جلد واپس لوٹ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے پہلے نامہ صحافیوں کو بتایا، ’’مجھے واضح وجوہات کی بنا پر جلد واپس آنا ہوگا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ وہ ’ان شاندار لیڈران کے ساتھ‘ رسمی عشائیہ کے بعد چلے جائیں گے۔
اسرائیل–ایران تنازعہ کا پانچواں دن
اسرائیل ایران تنازعہ پانچویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دشمنی بڑھ رہی ہے۔ ایران کی جانب سے اسرائیل پر کئی میزائل داغے گئے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


