Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے لیے خبروں میں تھے۔ وہ کئی مواقع پر یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ وہ دنیا کے دو جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک کے درمیان جنگ بندی کی وجہ تھے۔

جموں وکشمیرکے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے حال ہی میں ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ اورپاکستان کے فوجی سربراہ عاصم منیرکے درمیان ہوئے لنچ سے متعلق بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ وہی کرتا ہے، جس میں اس کواپنا فائدہ لگتا ہے۔ وہ کسی اورملک کی فکرنہیں کرتے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جب کوئی فریق جیت رہا ہو اور دوسرا ہار رہا ہو، تو معاملہ کچھ زیادہ ہی پیچیدہ ہو جاتا ہے، لیکن ہم تیار اور رضامند ہیں اور ایران سے بات چیت کر رہے ہیں

وزیراعظم مودی نے اوڈیشہ کے بھونیشورمیں پہلی بار بنی بی جے پی حکومت کے ایک سال مکمل ہونے پرمنعقدہ عوامی جلسے میں بتایا کہ انہوں نے صدرڈونالڈ ٹرمپ کا دعوت نامہ کیوں نہیں قبول کیا۔

بڑا امام باڑہ مسجد کے باہر احتجاج کررہے لوگوں کے ہاتھوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصویر تھی۔ جبکہ تختی پر لکھتا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ ہیں۔ مظاہرین نے خامنہ ای کی حمایت میں نعرے بازی کی۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، بیشتر قومی بینک، وفاقی دفاتر اور یونائیٹڈ اسٹیٹس پوسٹل سروس جون ٹینتھ کے اعزاز میں بند رہے۔ حالانکہ والمارٹ، کوسٹکو، ٹارگٹ اور اسٹاربکس جیسے بڑے اسٹورز چھٹی کے دن بھی کھلے رہے۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف اپنی فوج بھیجی تو حالات مزید خراب ہوں گے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اسرائیل کوایک بارپھر سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے بہت بڑی بھول کی ہے اور وہ اس غلطی کی سزا ضرور پائے گا۔ ہم اپنے شہیدوں کے خون اوراپنے علاقے میں ہوئے حملوں کوکبھی نہیں بھولیں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اگرامریکہ نے کسی قسم کی مداخلت کی تو پورے خطے میں کھلی جنگ شروع ہو جائے گی۔

وزیر اعظم مودی نے پاک بھارت جنگ بندی کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ اس میں امریکہ کا کوئی کردار نہیں تھا۔ امریکی صدر کے ساتھ 35 منٹ کی بات چیت میں پی ایم مودی نے واضح طور پر کہا کہ ہندوستان نے کبھی بھی تیسرے فریق کی ثالثی کو قبول نہیں کیا ہے اور آئندہ بھی ایسی ثالثی کو قبول نہیں کرے گا۔ خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے میڈیا کو اس بات چیت کی جانکاری دی۔

سکریٹری خارجہ وکرم مسری کے مطابق، 35 منٹ کی بات چیت میں پی ایم مودی نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان نے کبھی ثالثی کو قبول نہیں کیا اور نہ ہی وہ اسے قبول کرے گا۔ صدر ٹرمپ نے پی ایم مودی کی طرف سے بتائی گئی باتوں کو تفصیل سے سمجھا اور دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی لڑائی کی حمایت کا اظہار کیا۔