Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

ایران پر فضائی حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کا مقصد ایران کی ’جوہری افزودگی کی صلاحیت‘ کو تباہ کرنا تھا۔ ٹرمپ نے ملک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یا تو امن ہو گا یا سانحہ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی بہت سے اہداف باقی ہیں۔ اگر امن جلد نہ ہوا تو امریکہ دوسرے اہداف پر مزید درست حملے کرے گا۔

ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے ایران میں تین جوہری مقامات پر بمباری کی ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ جب تک وہ اسرائیل کے ساتھ تنازع ختم نہیں کرتا، وہ مزید درست حملے کرے گا۔ نشانہ بنائے گئے ان مقامات میں انتہائی محفوظ فورڈو، نطنز اور اصفہان جوہری تنصیبات شامل ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کو یو این چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ’’سنگین نتائج‘‘ سے خبردار کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو اب تنازع ختم کرنے پر راضی ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ انہوں نے ایران سے امن قائم کرنے کو کہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ایران نے ایسا نہیں کیا تو اس پر مزید بڑے حملے کیے جائیں گے۔

امریکہ نے اب ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں کھل کر مداخلت کی ہے۔ امریکی فضائیہ نے ایران کے تین بڑے جوہری مقامات فورڈو، نطنز اور اصفہان پر فضائی حملے کیے ہیں۔ اس حملے کو مکمل طور پر کامیاب قرار دیا گیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ جانکاری سوشل میڈیا سائٹ ’ٹرتھ‘ پر دی ہے۔

پاکستانی اخبار ڈان کے مطابق نامزدگی میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ تنازع میں ’’فیصلہ کن سفارتی کردار‘‘ ادا کیا اور ’’اعلیٰ قیادت‘‘ کا مظاہرہ کیا۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے دو ایٹمی طاقت رکھنے والے ممالک کے درمیان جنگ بندی میں ثالثی کا اہم کردار ادا کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے لیے خبروں میں تھے۔ وہ کئی مواقع پر یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ وہ دنیا کے دو جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک کے درمیان جنگ بندی کی وجہ تھے۔

جموں وکشمیرکے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے حال ہی میں ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ اورپاکستان کے فوجی سربراہ عاصم منیرکے درمیان ہوئے لنچ سے متعلق بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ وہی کرتا ہے، جس میں اس کواپنا فائدہ لگتا ہے۔ وہ کسی اورملک کی فکرنہیں کرتے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جب کوئی فریق جیت رہا ہو اور دوسرا ہار رہا ہو، تو معاملہ کچھ زیادہ ہی پیچیدہ ہو جاتا ہے، لیکن ہم تیار اور رضامند ہیں اور ایران سے بات چیت کر رہے ہیں