Bharat Express DD Free Dish

Trump’s immigration policy: امریکی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ، آن لائن پٹیشن وائرل، ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی پر شدید عوامی ردعمل

یہ پٹیشن اس وقت منظرِ عام پر آئی جب 25 مارچ کو لاس اینجلس میں ایک احتجاج کے دوران ڈیموکریٹ رکن کانگریس میکسین واٹرز نے بھی میلانیا ٹرمپ کی امیگریشن حیثیت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی میں آ بسنے والے شہریوں کو ملک بدر کرنے کے مبینہ منصوبے پر بڑھتے ہوئے عوامی غصے کے درمیان، معروف ترقی پسند پلیٹ فارم MoveOn پر ایک پٹیشن وائرل ہو گئی ہے، جس میں خاتون اول میلانیا ٹرمپ، ان کے والدین اور بیٹے بیرن ٹرمپ کی ملک بدری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی سے ان کا اپنا خاندان بھی مستثنیٰ نہیں ہونا چاہیے۔

پٹیشن میں لکھا گیا ہے کہ ’’اگر ٹرمپ قدرتی شہریوں کو ملک بدر کرنا چاہتے ہیں، تو انصاف کا تقاضا ہے کہ میلانیا اور ان کے والدین کو سب سے پہلے نکالا جائے۔ مزید برآں میلانیا کا بیٹا بیرن بھی اسی پالیسی کے تحت ملک چھوڑے کیوں کہ اس کی نانی امریکہ میں پیدا نہیں ہوئیں اور یہ ٹرمپ کی نئی پالیسی کے تحت قابل ملک بدری ہے۔‘‘

میلانیا کو بھی نہیں ملنا چاہیے استثنیٰ

پٹیشن میں مزید کہا گیا کہ اگر یہ واقعی قومی سلامتی کا مسئلہ ہے، تو پھر میلانیا کو بھی استثنیٰ نہیں ملنا چاہیے۔ یہ پٹیشن اس وقت منظرِ عام پر آئی جب 25 مارچ کو لاس اینجلس میں ایک احتجاج کے دوران ڈیموکریٹ رکن کانگریس میکسین واٹرز نے بھی میلانیا ٹرمپ کی امیگریشن حیثیت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

واٹرز نے کہا کہ ’’اگر ٹرمپ پیدائشی شہریت کے خلاف اقدامات کر رہے ہیں، تو انھیں پہلے اپنی بیوی میلانیا پر نظر ڈالنی چاہیے۔ ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ان کے والدین قانونی طور پر امریکہ آئے تھے یا نہیں۔‘‘ فوکس نیوز کے مطابق میلانیا ٹرمپ نے، جو سابق یوگوسلاویہ میں پیدا ہوئیں، 2006 میں امریکی شہریت حاصل کی۔ وہیں 2018 میں نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ میلانیا نے اپنے والدین، وکٹر اور امالیہ کو گرین کارڈ دلوانے کے بعد شہریت دلائی۔ امالیہ کا 2024 میں انتقال ہو گیا جب کہ وکٹر حالیہ عوامی تقریبات میں ٹرمپ خاندان کے ساتھ نظر آتے رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read