Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

ایران کے تین بڑے نیوکلیئرٹھکانوں پرامریکی بمباری کے بعد، ڈونالڈ ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہوسے کہا کہ یہ جنگ بند کرنے اورسفارتی مذاکرات میں واپس آنے کا وقت ہے۔

واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان لوگوں کو پرسکون ہونا پڑے گا، یہ مضحکہ خیز ہے۔ میں نے جو دیکھا وہ مجھے بالکل پسند نہیں آیا، نہ اسرائیل کا حملہ اور نہ ہی ایران کی جوابی کارروائی۔

اتوار کو پینٹاگون میں وزیر دفاع کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین آف دی جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین نے کہا کہ اسے ’آپریشن مڈ نائٹ ہیمر‘ کا نام دیا گیا تھا۔

پیر کی دیر رات ایران نے عراق اور قطر میں امریکی فوجی اڈوں پر چھ میزائل داغے، جس سے خطے میں مزید کشیدگی بڑھ گئی۔ ایرانی میڈیا نے اس آپریشن کو فتح کا اعلان کا نام دیا۔ حالانکہ، امریکی پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم نے زیادہ تر میزائلوں کو روک دیا اور قطری اڈوں پر کوئی بڑا اثر نہیں ہوا۔

جموں وکشمیرکی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ایران پر اسرائیل اب حملے نہیں کرے گا۔ اس سے لگتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل چاہتے تھے کہ سیزفائرہو۔

قطر نے اس جنگ بندی کے مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کیا۔ رائٹرز کے مطابق، قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے ایرانی حکام سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور امریکی تجویز کردہ جنگ بندی پر ایران کی رضامندی حاصل کی۔

جوہری پلانٹس پرامریکی حملے کے بعد ایران مکمل طورپرحملہ کرنے کا پلان بنا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ایران 24 سے 48 گھنٹوں میں بڑا حملہ کرے گا۔ یہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر حملہ کرسکتا ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے مرکزی مجلس شوری کے اجلاس میں ایران پریکطرفہ اورجارحانہ امریکی حملے کی سخت مذمت کی گئی اور ایران کے عوام کے ساتھ یگانگت کا اظہارکیا گیا۔ جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کا یہ بحران دنیا بھر کے امن پسند اورانصاف پسند عوام کے لیے سخت تشویش اوراضطراب کا باعث ہے۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے نوبل امن انعام کمیٹی کو ایک سفارش نامہ بھی ناروے بھجوا دیا گیا ہے۔ تاہم، ایران کے فردو، اصفہان اور نطنز جوہری مقامات پر امریکی حملوں کے بعد اس فیصلے پر شدید تنقید ہو رہی ہے۔

اس حملے میں خاص طور پر B-2 اسپرٹ اسٹیلتھ بمبار اور F-22 ریپٹر جیٹس کا استعمال کیا گیا، جو ریڈار سے اوجھل رہنے کی اپنی صلاحیت کے لیے مشہور ہیں۔ B-2 بمبار طیاروں کا استعمال خاص طور پر ایران کے زیرِ زمین ایٹمی ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے کیا گیا۔