Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

ٹرمپ نے لکھا، ’’دوسرے لفظوں میں، یہ احمقانہ ہے۔ امریکہ اسرائیل کے دفاع اور حمایت کے لیے ہر سال اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے، جو کہ کسی بھی دوسرے ملک سے کہیں زیادہ ہے۔ ہم اسے ہرگز برداشت نہیں کرنے والے ہیں۔ ہم نے ابھی ابھی وزیر اعظم بی بی نیتن یاہو کی قیادت میں ایک بڑی فتح حاصل کی ہے اور یہ ہماری جیت کو داغدار کر رہا ہے۔ بی بی کو جانے دو، انہیں ایک بہت بڑا کام کرنا ہے۔‘‘!

یاد رہے کہ حال ہی میں ہیگ میں نیٹو کے سربراہی اجلاس میں ٹرمپ نے روسی صدر کو گمراہ قرار دیا۔ جہاں ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ یوکرین کے بحران کو حل کرنا ان کے ابتدائی اندازے سے زیادہ مشکل ثابت ہوا ہے۔

یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیر اعظم مودی مسلسل 11 سال اقتدار میں ہیں اور اب اپنے 12ویں سال کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اتنے طویل عرصے کے باوجود ان کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے، بلکہ وہ عالمی سطح پر مزید مضبوط ہو کر ابھرے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، غزہ میں دشمنانہ کارروائیاں دو ہفتوں کے اندرختم کردی جائیں گی اورجنگ کے خاتمے کی شرائط میں چارعرب ممالک جن میں مصراورمتحدہ عرب امارات شامل ہیں کوغزہ کا انتظام سنبھالنے کی ذمہ داری دی جائے گی۔

وزیر خارجہ نے مزید لکھا کہ اگر صدر ٹرمپ کسی معاہدے کے لیے واقعی سنجیدہ ہیں تو انہیں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے بارے میں توہین آمیز اور ناقابل قبول زبان کو ترک کرنا چاہیے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپریل 2025 میں تقریباً تمام غیر ملکی درآمدات پر باہمی محصولات کے نظام کے نفاذ کا اعلان کیا تھا، ان کے تحت جن اشیا پر 10 فیصد سے زیادہ ٹیرف عائد ہونا تھا، انہیں 90 دن کی چھوٹ دی گئی تھی

مرکزی  وزیر تجارت پیوش گوئل نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور صدرٹرمپ نے فروری 2025 میں ملاقات کے دوران ’منصفانہ اور متوازن‘ معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔ امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک نے بھی امید ظاہر کی کہ معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور بھارت کے درمیان ممکنہ تجارتی معاہدے کے حوالے سے بڑی اپ ڈیٹ دی ہے۔ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ ہندوستان کے ساتھ بہت جلد ایک بہت بڑا تجارتی معاہدہ طے پا جائے گا۔

ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای نے امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ کے ایرانی نیوکلیئرسہولیات پر حملے کے دعووں کوغلط بتایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کواس جنگ سے کوئی فائدہ نہیں ہوا اورایران جنگی پروگرام کو جاری رکھے گا۔

ٹرمپ نے کئی مواقع پر، بشمول سعودی عرب اور رامافوسا کے ساتھ ملاقاتوں میں، اس دعوے کو دہرایا۔ تاہم، بھارتی حکام نے اسے کشمیر کے تنازع کو عالمی سطح پر اٹھانے کی کوشش قرار دیا، جو بھارت کے دو طرفہ موقف کے خلاف ہے۔