Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

صدرڈونالڈ ٹرمپ نے ان خبروں پر بھی تبصرہ کیا جن میں کہا گیا تھا کہ امریکی، اسرائیلی اور قطری حکام کے درمیان غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے ایک خفیہ ملاقات ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل اہمیت معاہدے کے حصول کی ہے، اور وہ معاہدہ قریب ہے۔

صدر ٹرمپ نے اب تک افغانستان سے متعلق کوئی باضابطہ پالیسی یا منصوبہ پیش نہیں کیا ہے، حالاں کہ  ان کے دوسرے صدارتی دور کو سات ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔

امریکی ریڈی میڈ ملبوسات کی مارکیٹ میں ویتنام کا 19 فیصد حصہ ہے جبکہ بنگلہ دیش کا 9 فیصد حصہ ہے۔ ٹرمپ نے جاپان اور جنوبی کوریا سے آنے والی اشیا پر 25 فیصد ٹیرف لگا دیا ہے جب کہ 12 دیگر ممالک کو خطوط موصول ہوئے ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ انہیں کتنا ٹیرف ادا کرنا پڑے گا۔ بھارت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کا بھارت کے ساتھ بہت جلد تجارتی معاہدہ ہو سکتا ہے۔

لولا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ دنیا کو ایک راستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے تجارتی تعلقات کو ڈالر کے ذریعے منتقل نہ کرنا پڑے۔ظاہر ہے کہ ہمیں اسے احتیاط سے کرنے کے بارے میں ذمہ دار ہونا پڑے گا۔ ہمارے مرکزی بینکوں کو دوسرے ممالک کے مرکزی بینکوں کے ساتھ اس پر بات کرنی چاہیے۔

ڈنر میٹنگ کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کی بہت تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ بنجامن نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ سارہ کی میزبانی کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ ہم ایک طویل عرصے سے دوست ہیں اور ایک ساتھ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ یہ نئے ٹیرف برسوں پرانی غلط پالیسیوں کو درست کرنے کے لیے ضروری ہیں جنہوں نے امریکہ پر بھاری تجارتی خسارہ مسلط کیاہے۔ ٹرمپ کے مطابق ان پالیسیوں میں ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹیں شامل ہیں۔

برازیل کے شہرریوڈی جنیرومیں برکس 2025 سربراہی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ہندوستان سمیت 10 اراکین ممالک نے شرکت کی۔ اجلاس میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پرحملوں کی مذمت کی گئی۔ اس پرسابق امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ نے برکس کے حمایتی ممالک پر10 فیصد اضافی ٹیرف لگانے کی دھمکی دی تھی۔

اس منی ٹریڈ ڈیل میں بھارت نے امریکہ کو بھی کچھ رعایتیں دینے کی پیشکش کی ہے، جن میں زرعی مصنوعات نمایاں ہیں۔ بھارت نے پیکان نٹس اور بلیوبیری جیسی امریکی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے کی پیشکش کی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے "ٹروتھ سوشل" پر لکھا: "مجھے ایلون مسک کو اس طرح پٹری سے اترا ہوا دیکھ کر افسوس ہوا۔ خاص طور پر پچھلے پانچ ہفتوں میں وہ مکمل طور پر بے قابو ہو گئے ہیں۔"

برکس ممالک کے مشترکہ اعلامیہ میں جموں و کشمیر میں پہلگام حملے کی مذمت کی گئی، برکس ممالک نے دہشت گردوں کی سرحد پار نقل و حرکت، دہشت گردی کی مالی معاونت اور محفوظ پناہ گاہوں سے نمٹنے پر زور دیا۔