سپریم کورٹ نے پیر کے روز برازیل کے سابق صدر جیئر بولسونارو کو نظر بند کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ ان پر مبینہ طور پر تختہ الٹنے کی سازش کا مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے امریکہ کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ کشیدگی بڑھنے کا امکان ہے۔ عدالت کے جج الیگزینڈر ڈی موریش نے حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ بولسونارو نے اپنے بیٹے کے سوشل میڈیا چینلز پر مواد شیئر کر کے ان پر لگائے گئے احتیاطی اقدامات کی خلاف ورزی کی ہے۔
جج موریش نے بولسونارو سے کسی بھی قسم کی ملاقات پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ تاہم، صرف وکیلوں اور عدالت کی جانب سے مجاز افراد کو اس پابندی سے استثنا حاصل ہوگا۔ مزید یہ کہ بولسونارو پر براہ راست یا کسی تیسرے فریق کے ذریعے موبائل فون استعمال کرنے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ فیصلے میں جسٹس موریش نے خبردار کیا کہ بولسونارو کے ملک سے فرار ہونے کا ٹھوس امکان موجود ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بولسونارو نے برازیل کے عدالتی نظام میں مداخلت کے لیے ایک غیر ملکی صدر سے بھی مدد طلب کی تھی۔
بولسونارو پر کیا الزامات ہیں؟
اگر بولسونارو پر عائد الزامات کی بات کی جائے تو ان پر اور ان کے 33 ساتھیوں پر تختہ الٹنے کی سازش، پرتشدد جرائم میں شامل ہونے، جمہوریت کو ختم کرنے کی کوشش، اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ استغاثہ کے سربراہ پاؤلو گونیٹ نے بتایا کہ اس سازش میں ان کے ساتھ سابق نائب صدر کا بھی نام شامل ہے۔
معاملہ ٹرمپ تک پہنچا
یہ ٹرائل اب برازیل کی حدود سے نکل کر امریکہ تک جا پہنچا ہے۔ دراصل، امریکی سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بولسونارو کے خلاف عدالتی کارروائی پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ برازیل سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف اس لیے لگایا گیا ہے کیونکہ وہاں جمہوری نظام میں ایک “چڑیلوں کی تلاش” (Witch Hunt) جاری ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ اور جیئر بولسونارو کے تعلقات دنیا کے سامنے ہیں۔ دونوں کو دائیں بازو کے قوم پرست دھڑے سے تعلق رکھنے والے لیڈر سمجھا جاتا ہے اور ٹرمپ اس ٹرائل کو ایک “سیاسی سازش” قرار دے رہے ہیں۔ ان کے اس بیان سے برازیل میں بھی دائیں بازو کی سیاسی صف بندی مزید تیز ہو گئی ہے۔
بھارت ایکسریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




