Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

اس تجارتی معاہدے کو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارت کو لے کر کئی بار کشیدگی دیکھی گی۔

ایلون کا تھرڈ پارٹی شروع کرنا ٹیسلا اور اسپیس ایکس سے بہت ملتا جلتا ہے۔ کامیابی کے امکانات کم ہیں، لیکن اگر یہ کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ کھیل کو مکمل طور پر بدل دے گا۔  ایلون مسک نے اس کا مثبت جواب دیتے ہوئے اس بات کا اظہار کیا کہ وہ نہ صرف خیالات بلکہ ممکنہ حکمت عملیوں پر بھی کام کر سکتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، "میں نے 2024 میں آئیووا کے لوگوں سے جو وعدے کیے تھے وہ اب پورے ہو رہے ہیں۔ یہ صرف ایک قانون نہیں ہے، بلکہ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔"

 ایران نے امریکہ کے ساتھ بات چیت کرنے سے متعلق شرط رکھ دی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ جب تک امریکہ اوراسرائیل کی طرف سے مستقبل میں حملوں کوروکنے کی قابل اعتماد ضمانت نہیں دی جائے گی، تب تک دونوں ممالک سے کسی بھی طرح کی بات چیت بے ایمانی مانی جائے گی۔

بل کی منظوری کا عمل آسان نہیں تھا، کیونکہ ریپبلکن پارٹی کے اندر مالیاتی قدامت پسندوں، خاص طور پر ہاؤس فریڈم کاکس، نے اس کے قرض میں اضافے اور سماجی پروگراموں میں کٹوتیوں پر اعتراضات اٹھائے۔ سینیٹ میں، بل 51-50 کے ووٹ سے منظور ہوا، جہاں نائب صدر جے ڈی وانس نے فیصلہ کن ووٹ کاسٹ کیا۔

یہ پٹیشن اس وقت منظرِ عام پر آئی جب 25 مارچ کو لاس اینجلس میں ایک احتجاج کے دوران ڈیموکریٹ رکن کانگریس میکسین واٹرز نے بھی میلانیا ٹرمپ کی امیگریشن حیثیت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

ٹرمپ نے کہاتھا کہ سبسڈی کے بغیر، مسک کو "دکان بند کر کے واپس جنوبی افریقہ جانا پڑے گا۔مسک نے اس کے فوراً بعد جواب دیا، کہا کہ ریپبلکن رہنما کو اپنی دھمکی پر عمل کرنا چاہیے اور ان کی کمپنیوں کو دی جانے والی سبسڈی ختم کر دینی چاہیے۔ میں لفظی طور پر کہہ رہا ہوں کہ سب کچھ ختم کر دو۔

امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ نے غزہ میں تقریباً ڈھائی سال سے جاری جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کردیا ہے۔ غزہ جنگ بندی کی یہ تجویز امریکہ کی قیادت میں قطراورمصر کے تعاون سے تیارکی گئی تھی، جسے اسرائیل نے قبول کرلیا ہے۔ دوسری جانب، ایلن مسک نے ٹوئٹ کرکے ٹرمپ کے دعوے پرسوال اٹھایا ہے۔

یہ بل اگست میں امریکی سینیٹ میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو اس کا سب سے زیادہ اثر بھارت اور چین پر پڑے گا ،جو روس سے سستا خام تیل خریدتے ہیں۔

مجھے امید ہے کہ  حماس اس تجویز کو قبول کرے گا۔کیوں کہ اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو یہ بہتر نہیں ہو گا بلکہ بدتر ہو جائے گا۔''