Bharat Express DD Free Dish

Epstein Sex Scandal: جیفری ایپسٹین کون تھا؟ ٹرمپ سے اس کا کیا تعلق تھا؟ جانئے فائل سے جڑا یہ تنازعہ کیا ہے؟

معاملہ اُس مبینہ “کلائنٹ فائل” کا ہے جو جنسی مجرم ایپسٹین کے پاس تھی، اور جس میں دنیا کے طاقتور رہنماؤں، کاروباری ٹائیکونز اور مشہور شخصیات کے نام ہونے کے قیاس ہیں۔

جیفری ایپسٹین کی موت کو چھ سال گزر چکے ہیں، لیکن اس کا نام ایک بار پھر امریکی سیاست میں تنازعہ کا سبب بن رہا ہے۔ اس بار تنازعے کے مرکز میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔معاملہ اُس مبینہ “کلائنٹ فائل” کا ہے جو جنسی مجرم ایپسٹین کے پاس تھی، اور جس میں دنیا کے طاقتور رہنماؤں، کاروباری ٹائیکونز اور مشہور شخصیات کے نام ہونے کے قیاس ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ پر الزام ہے کہ وہ ان دستاویزات کو جان بوجھ کر عام نہیں کر رہی، کیونکہ اس سے کئی ہائی پروفائل شخصیات بے نقاب ہو سکتی ہیں۔امریکی ایجنسی ایف بی آئی اور محکمہ انصاف پر بھی یہ فائل دبانے کے الزامات لگ رہے ہیں۔
“ایپسٹین سیکس اسکینڈل: ٹرمپ مشکلات میں، امریکی ایجنسیوں پر حقائق چھپانے کا الزام”

جیفری ایپسٹین کون تھا؟ ٹرمپ سے اس کا کیا تعلق تھا؟ اور فائل سے جڑا یہ تنازعہ کیا ہے؟

ایپسٹین کا قریبی دوست بنے ٹرمپ
यह तस्वीर 1997 में फ्लोरिडा में ली गई थी। इसमें जेफ्री एपस्टीन और राष्ट्रपति डोनाल्ड ट्रम्प साथ में खड़े हैं।

ٹرمپ اور ایپسٹین کی ملاقات ایک پارٹی میں ہوئی تھی۔ 2002 میں ایک میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا:“میں جیف کو پندرہ سال سے جانتا ہوں، وہ لاجواب آدمی ہے۔ ہم دونوں کو کم عمر حسین لڑکیاں پسند ہیں۔“یہ بیان بعد میں ٹرمپ کے لیے پریشانی کا باعث بن گیا۔1992 میں ٹرمپ نے فلوریڈا میں اپنے مار-اے-لاگو ریزورٹ میں ایپسٹین اور چیئر لیڈرز کے ساتھ ایک پارٹی رکھی۔ 2019 میں این بی سی نے اس پارٹی کی فوٹیج جاری کی، جس میں ٹرمپ ایپسٹین کو ایک خاتون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے نظر آتے ہیں: “دیکھو، وہ بہت ہاٹ ہے“

ایپسٹین کے جیٹ سے سفر کرتے تھے ٹرمپ

میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے سات بار ایپسٹین کے پرائیویٹ جیٹ سے سفر کیا۔ “نیویارک ٹائمز” کے مطابق، یہ سفر 1993 سے 1997 کے درمیان ہوئے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ  زیادہ تر پروازیں پام بیچ اور نیویارک کے درمیان تھیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی ایپسٹین کے پرائیویٹ جزیرے کا سفر نہیں کیا اور نہ ہی کوئی غلط کام کیا۔

“می ٹو” تحریک میں ڈوبا ایپسٹین

2009 میں جیل سے باہر آنے کے بعد ایپسٹین نے خود کو کم نمایاں رکھا۔ 2017 میں امریکہ میں “می ٹو” تحریک شروع ہوئی، جب “نیویارک ٹائمز” نے فلم پروڈیوسر ہاروی وائنسٹائن کے خلاف جنسی استحصال کی رپورٹس شائع کیں۔

اس کے بعد 80 سے زائد خواتین نے وائنسٹائن کے خلاف الزامات عائد کیے، جن میں انجلینا جولی، سلمیٰ ہائیک، اوما تھرمن، اور ایشلے جڈ جیسے بڑے نام شامل تھے۔اسی دوران ورجینیا گفری نامی ایک لڑکی نے ایپسٹین پر سنگین الزامات لگائے۔ اس کا کہنا تھا کہ تین سال تک اس کا جنسی استحصال کیا گیا۔ بعد میں تقریباً 80 خواتین نے ایپسٹین کے خلاف شکایات درج کروائیں۔

ٹرمپ کے کلب میں پھنس گئی ورجینیا گفری
तस्वीर में प्रिंस एंड्रयू वर्जीनिया गिफ्रे (बीच में) और गिस्लेन मैक्सवेल हैं। यह फोटो अमेरिका की एक अदालत ने 9 अगस्त 2021 को जारी की थी।

گفری کا الزام تھا کہ جب وہ صرف 16 سال کی تھی، وہ ٹرمپ کے مار-اے-لاگو کلب میں کام کر رہی تھی۔ وہیں اس کی ملاقات گِسلین میکسویل سے ہوئی، جس نے اسے مساج تھراپی کا جھانسہ دے کر ایپسٹین کے پاس لے جایا۔گفری کے مطابق، اسے ایپسٹین کے گھر لے جایا گیا، جہاں اسے مساج دینے کو کہا گیا۔ تین سال تک وہ ایپسٹین اور میکسویل کے لیے کام کرتی رہی۔

معمولی ٹیچر سے ارب پتی کاروباری بننے کا سفر

ایپسٹین 1970 کی دہائی میں نیویارک کے ایک اسکول میں ریاضی اور فزکس پڑھاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک طالب علم کے والد اس سے متاثر ہوئے اور اس کی ملاقات وال اسٹریٹ کے انویسٹر سے کروائی۔

چار سال بعد، ایپسٹین “بیئر سٹرنز” کمپنی کا پارٹنر بن گیا، لیکن 1981 میں فراڈ کے الزام میں نکال دیا گیا۔ اگلے ہی سال اس نے “ایپسٹین اینڈ کمپنی” نامی فرم کھولی، جو امیر افراد کو مالی مشورے دیتی تھی۔

ایپسٹین دعویٰ کرتا تھا کہ وہ صرف ان افراد کے پیسے مینج کرتا ہے جن کی دولت ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہو، لیکن تفتیش میں اس کے کاروبار کو مشکوک پایا گیا۔

جلد ہی وہ بہت امیر ہو گیا۔ اس نے نیو میکسیکو میں فارم ہاؤس (1993)، نیویارک میں سب سے بڑا نجی گھر (1996) اور فلوریڈا میں ایک محل (2002) خرید لیا۔

ایپسٹین اب امریکہ کی جانی پہچانی شخصیت بن چکا تھا۔ اس کی پارٹیوں میں بل کلنٹن، سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ، اور گلوکار مائیکل جیکسن جیسے نامور لوگ شامل ہوتے تھے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read