امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک بار پھر بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے حوالے سے اپنے متنازع بیانات دہرانے کے بعد کانگریس نے ہفتہ کے روز مطالبہ کیا ہے کہ وزیرِاعظم نریندر مودی خود پارلیمنٹ میں آ کر ان دعوؤں پر واضح اور دوٹوک بیان دیں۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں ریپبلکن سینیٹرز کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے کے دوران کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مئی میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران ’’چار یا پانچ لڑاکا طیارے مار گرائے گئے‘‘۔ تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ طیارے کس ملک کے مار گرائے گئے یا یہ تعداد دونوں ممالک کے مارے گرائے جانے والے طیاروں پر مشتمل ہے۔
#WATCH | Delhi | On US President Donald Trump’s statement that five fighter jets were shot down during India-Pakistan tensions, Congress MP Jairam Ramesh says, “Since May 10 till today, US President Donald Trump has repeated two things for 24 times first, he stopped the war… pic.twitter.com/PnLZJQjfjM
— ANI (@ANI) July 19, 2025
ٹرمپ کے اس بیان پر کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے کہا کہ امریکی صدر کا یہ 24واں بیان ہے جس میں انھوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کروائی۔ ٹرمپ نے پھر سے کہا ہے کہ اگر دونوں ملک جنگ بند نہ کرتے تو امریکہ ان کے ساتھ تجارتی معاہدہ نہ کرتا۔ جے رام رمیش نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے ان بیانات سے کئی سنگین سوالات جنم لیتے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ وزیرِاعظم مودی صدر ٹرمپ کے ان دعوؤں پر خود پارلیمنٹ میں وضاحت پیش کریں۔
واضح رہے کہ کہ 10 مئی کو، جس دن ہندوستان اور پاکستان نے جنگ بندی پر اتفاق کیا، ٹرمپ نے پہلی مرتبہ سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ بھارت اور پاکستان نے امریکہ کی ثالثی کے بعد مکمل جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ حالاں کہ بھارت نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی براہِ راست ڈی جی ایم اوز (فوجی افسرانِ اعلیٰ) کی بات چیت کا نتیجہ تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

