امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ارب پتی ایلون مسک کی سیاسی پارٹی کو “بکواس” قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایلون مسک “پٹری سے اتر گئے ہیں”۔ خاص بات یہ ہے کہ امریکا کے انتخابات میں ایک اہم جوڑی بن کر سامنے آئے ایلون مسک اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان طویل عرصے سے تنازع چل رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس کی وجہ الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق پالیسی ہو سکتی ہے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا:”میرا خیال ہے کہ تیسری پارٹی شروع کرنا بکواس ہے۔ ہمیں ریپبلکن پارٹی میں زبردست کامیابی ملی ہے۔ ڈیموکریٹس راستہ بھٹک گئے ہیں، لیکن یہاں ہمیشہ دو جماعتی نظام رہا ہے اور میرا ماننا ہے کہ تیسری پارٹی سے صرف کنفیوژن ہوگا۔ “انہوں نے مزید کہا:”… تیسری پارٹی کبھی کامیاب نہیں ہوئی، تو وہ مذاق کر سکتے ہیں، لیکن یہ سب بکواس ہے۔”
اس کے علاوہ انہوں نے “ٹروتھ سوشل” پر لکھا: “مجھے ایلون مسک کو اس طرح پٹری سے اترا ہوا دیکھ کر افسوس ہوا۔ خاص طور پر پچھلے پانچ ہفتوں میں وہ مکمل طور پر بے قابو ہو گئے ہیں۔”
ایلون مسک نے کہا کہ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اختلافات کے بعد امریکا کے عوام کو ان کی آزادی واپس دلانے کے لیے ایک نئی سیاسی جماعت بنائی ہے۔
انہوں نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ملک میں دو جماعتی نظام کو چیلنج دینے کے لیے “امریکہ پارٹی” کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے “ایکس” پر ایک پوسٹ میں لکھا:”آپ کو آپ کی آزادی واپس دلانے کے لیے آج ‘امریکہ پارٹی’ کی بنیاد رکھی گئی ہے۔”
ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سی ای او نے کہا:”جب بات ہمارے ملک کو بربادی اور کرپشن کے ذریعے دیوالیہ بنانے کی آتی ہے، تو ہم جمہوریت میں نہیں بلکہ ایک جماعتی نظام میں ہوتے ہیں۔”
البتہ، انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان کی پارٹی کہاں رجسٹرڈ ہو گی۔ قانونی طور پر پارٹی بنانے کے لیے وفاقی انتخابی کمیشن (FEC) میں رجسٹریشن ضروری ہوتی ہے۔
سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق ایف ای سی کی حالیہ فائلنگ میں ایسی کوئی اشارہ نہیں ملا ہے، کوئی نئی پارٹی رجسٹر کی گئی ہو۔ایلون مسک نے پہلی بار پارٹی بنانے کا اشارہ اس وقت دیا تھا جب ان کے ٹرمپ کے ساتھ عوامی اختلافات سامنے آئے تھے۔
اس کے بعد انہوں نے حکومتی کارکردگی سے متعلق اپنا عہدہ بھی چھوڑ دیا تھا۔ٹرمپ اور مسک کے درمیان سوشل میڈیا پر بھی خاصی تکرار دیکھنے کو ملی تھی۔
اسی کشیدگی کے دوران ایلون مسک نے “ایکس” پر ایک پوسٹ میں یوزر سے پوچھا تھا کہ کیا امریکا میں ایک نئی سیاسی پارٹی ہونی چاہیے، جس پر کئی لوگوں نے ان کی حمایت کی تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

