Bharat Express DD Free Dish

CM Omar Abdullah

غلط معلومات کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر، وزارت دفاع نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ واٹس ایپ پر پھیلنے والی فرضی خبروں سے محتاط رہیں اور صرف معتبر ذرائع پر بھروسہ کریں۔ وزارت نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ اس کے آفیشل واٹس ایپ چینل کو فالو کریں۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سیز فائرپر رضامندی کے کچھ ہی گھنٹوں کے بعد پاکستان کی طرف سے سیزفائر کی خلاف ورزی کی گئی۔ اس خلاف ورزی سے متعلق جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے ناراضگی ظاہرکی ہے۔

ہندوستانی فوج نے ’آپریشن سندور‘ کے ذریعہ پاکستان سے بڑا بدلہ لیا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی اورپاکستان کی طرف سے مسلسل حملے کئے جا رہے تھے، جس کے بعد ہندوستان نے جوابی کارروائی میں پاکستان کے کئی ڈیفنس سسٹم کو تباہ کردیا تھا، جس کے بعد سعودی عرب، امریکہ اور یوروپی یونین کی کوششوں سے دونوں ممالک سے جنگ روکنے کی اپیل کی تھی۔

عمر عبداللہ نے ہفتے کی صبح دو پوسٹس کیں۔ پہلے میں پاکستانی گولہ باری میں جموں و کشمیر کے انتظامی افسر کی ہلاکت پر غم کا اظہار کیا اور دوسرے میں عالمی برادری کے فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ راج کمار تھاپا آج صبح جموں و کشمیر کے راجوری میں پاکستان کی طرف سے شدید گولہ باری اور بمباری میں شہید ہو گئے۔ تھاپا کو جموں و کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمشنر کے طور پر تعینات کیا گیا تھا۔

پاکستانی گولی باری میں زخمی ہوئے لوگوں سے جموں میں ملاقات کے بعد وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا کہ پاکستان نے عام لوگوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ اسے یہ بند کردینا چاہئے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سرحدی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے بارڈر سیکورٹی فورسز کے ڈائریکٹر جنرل سے بات کی ہے۔ انہوں نے ہوائی اڈے کی سیکورٹی کے حوالے سے سی آئی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل سے بھی بات کی ہے۔ وزیر داخلہ نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور پولیس کے ڈائریکٹر جنرل نلین پربھات سے بھی بات کی۔ ان حملوں کے بعد ہندوستان نے پاکستان کے خلاف جوابی کارروائی کی ہے۔

جموں وکشمیرکے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ آپریشن سندورکے بعد جموں وکشمیرمیں ایمرجنسی میٹنگ بلائی ہے۔ ممکنہ طورپریہ میٹنگ پاکستان سے متصل علاقوں میں موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے بلائی گئی ہے۔

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتے کے روز دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے سمیت مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا۔

جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے اسمبلی میں کہا کہ کوئی کشمیری حملہ نہیں چاہتا ہے۔ 21 سال بعد میں نے ایسے حملے دیکھے ہیں۔ معافی مانگنے کے لئے ہمارے پاس لفظ نہیں ہے۔

عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’مجرموں کو سزا دیں، ان پر رحم نہ کریں۔ لیکن بے گناہ لوگوں کو کولیٹرل ڈیمیج کا شکار نہ ہونے دیں۔‘‘