Bharat Express DD Free Dish

CM Omar Abdullah

اس تنازعہ نے سوشل میڈیا پر وسیع توجہ حاصل کی، جہاں کچھ صارفین نے عمر عبداللہ کے موقف کو ہندوستان کے مفادات کی حمایت قرار دیا، جبکہ دوسروں نے محبوبہ کے امن کی وکالت کو سراہا۔

جموں وکشمیرکی سابق وزیراعلیٰ اورپی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہا کہ عمرعبداللہ کو تلبل نیوی گیشن بیراج کی تعمیرکی بات نہیں کرنی چاہئے کیونکہ یہ اشتعال انگیزبیان ہے۔

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی ہو چکی ہے، لہٰذا اب متاثرہ علاقوں کے رہائشی اپنے گھروں کو لوٹ سکتے ہیں۔

پہلگام میں دہشت گردانہ حملے سے کشمیرکی سیاحتی صنعت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ برسوں کی محنت ایک ہی حملے میں برباد ہوگئی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان نے جان بوجھ کرمسئلہ کشمیرکوبین الاقوامی سطح پراٹھایا ہے، جس سے امن اورترقی کی کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔ سیاحت کی صنعت ٹھپ ہوکررہ گئی ہے۔

غلط معلومات کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر، وزارت دفاع نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ واٹس ایپ پر پھیلنے والی فرضی خبروں سے محتاط رہیں اور صرف معتبر ذرائع پر بھروسہ کریں۔ وزارت نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ اس کے آفیشل واٹس ایپ چینل کو فالو کریں۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سیز فائرپر رضامندی کے کچھ ہی گھنٹوں کے بعد پاکستان کی طرف سے سیزفائر کی خلاف ورزی کی گئی۔ اس خلاف ورزی سے متعلق جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے ناراضگی ظاہرکی ہے۔

ہندوستانی فوج نے ’آپریشن سندور‘ کے ذریعہ پاکستان سے بڑا بدلہ لیا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی اورپاکستان کی طرف سے مسلسل حملے کئے جا رہے تھے، جس کے بعد ہندوستان نے جوابی کارروائی میں پاکستان کے کئی ڈیفنس سسٹم کو تباہ کردیا تھا، جس کے بعد سعودی عرب، امریکہ اور یوروپی یونین کی کوششوں سے دونوں ممالک سے جنگ روکنے کی اپیل کی تھی۔

عمر عبداللہ نے ہفتے کی صبح دو پوسٹس کیں۔ پہلے میں پاکستانی گولہ باری میں جموں و کشمیر کے انتظامی افسر کی ہلاکت پر غم کا اظہار کیا اور دوسرے میں عالمی برادری کے فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ راج کمار تھاپا آج صبح جموں و کشمیر کے راجوری میں پاکستان کی طرف سے شدید گولہ باری اور بمباری میں شہید ہو گئے۔ تھاپا کو جموں و کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمشنر کے طور پر تعینات کیا گیا تھا۔

پاکستانی گولی باری میں زخمی ہوئے لوگوں سے جموں میں ملاقات کے بعد وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا کہ پاکستان نے عام لوگوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ اسے یہ بند کردینا چاہئے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سرحدی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے بارڈر سیکورٹی فورسز کے ڈائریکٹر جنرل سے بات کی ہے۔ انہوں نے ہوائی اڈے کی سیکورٹی کے حوالے سے سی آئی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل سے بھی بات کی ہے۔ وزیر داخلہ نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور پولیس کے ڈائریکٹر جنرل نلین پربھات سے بھی بات کی۔ ان حملوں کے بعد ہندوستان نے پاکستان کے خلاف جوابی کارروائی کی ہے۔