Bharat Express DD Free Dish

CM Omar Abdullah

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے دہلی کے لال قلعے کے قریب ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند مجرموں کی حرکتوں کی سزا پوری وادی کے عوام کو نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر کشمیری کو دہشت گرد قرار دینا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ یہ سوچ ملک کے اتحاد و امن کے لیے نقصان دہ ہے۔

بڈگام ضمنی انتخابات 11 نومبر کو ہوں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 14 نومبر کو کی جائے گی۔ پیر کے روز نیشنل کانفرنس، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے امیدواروں نے بڈگام سیٹ کے لیے پرچہ نامزدگی جمع کئے۔

امت شاہ نے جموں کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا فضائی معائنہ بھی کیا تاکہ زمینی صورت حال کا براہ راست مشاہدہ کیا جا سکے۔

انھوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے رابطہ کرکے امدادی اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔

جموں کے ڈوڈہ میں بادل پھٹنے سے کئی گھر تباہ ہوگئے۔ اس کے بعد سے راحت بچاؤ کام جاری ہے۔ علاقے میں بھاری بارش ہو رہی ہے۔ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ جموں کا دورہ کرنے والے ہیں۔

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ جان کی قیمت کوئی نہیں لگا سکتا لیکن متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ کئی مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے اور انہیں امداد پہنچانے کا کام بھی جاری ہے۔ نقصان کا مکمل اندازہ فی الحال ممکن نہیں لیکن ہماری ترجیح لوگوں کی جان بچانا ہے۔

ایس ڈی آر ایف کے اہلکار نے آئی اے این ایس کو بتایا کہ کشتواڑ واقعہ میں 15 سے زیادہ افراد کی موت ہو گئی ہے، جب کہ 50 سے زیادہ زخمی ہیں۔ کچھ زخمیوں کو کشتواڑ کے اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔

جمعرات کے روز کشتواڑ کے چشوتی علاقے میں بادل پھٹنے کے بعد سیلاب آگیا۔ مقامی ایم ایل اے سنیل شرما نے بتایا کہ یہ واقعہ اس جگہ پیش آیا جہاں شری مچل یاترا کے لیے چار پہیہ گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں اور کئی عارضی دکانیں لگی ہوئی ہیں۔ اے ڈی سی کشتواڑ کے مطابق شری مچل یاترا کو اگلے نوٹس تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پانچ  اگست 2019 کو جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آرٹیکل 370 کو مرکز کی مودی حکومت نے پارلیمنٹ میں بھاری اکثریت کے ساتھ منسوخ کر دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد ریاست کو جموں و کشمیر اور لداخ کے دو الگ الگ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کر دیا گیا۔

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اسٹوچیوز آف یونٹی کو دیکھنے کے بعد کہا:"میں نے نہیں سوچا تھا کہ یہ مجسمہ اتنا عظیم الشان ہوگا۔ اسے دیکھ کر ہی سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ کس جذبے اور سوچ سے بنایا گیا ہے۔