Bharat Express DD Free Dish

CM Omar Abdullah

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ جان کی قیمت کوئی نہیں لگا سکتا لیکن متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ کئی مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے اور انہیں امداد پہنچانے کا کام بھی جاری ہے۔ نقصان کا مکمل اندازہ فی الحال ممکن نہیں لیکن ہماری ترجیح لوگوں کی جان بچانا ہے۔

ایس ڈی آر ایف کے اہلکار نے آئی اے این ایس کو بتایا کہ کشتواڑ واقعہ میں 15 سے زیادہ افراد کی موت ہو گئی ہے، جب کہ 50 سے زیادہ زخمی ہیں۔ کچھ زخمیوں کو کشتواڑ کے اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔

جمعرات کے روز کشتواڑ کے چشوتی علاقے میں بادل پھٹنے کے بعد سیلاب آگیا۔ مقامی ایم ایل اے سنیل شرما نے بتایا کہ یہ واقعہ اس جگہ پیش آیا جہاں شری مچل یاترا کے لیے چار پہیہ گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں اور کئی عارضی دکانیں لگی ہوئی ہیں۔ اے ڈی سی کشتواڑ کے مطابق شری مچل یاترا کو اگلے نوٹس تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پانچ  اگست 2019 کو جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آرٹیکل 370 کو مرکز کی مودی حکومت نے پارلیمنٹ میں بھاری اکثریت کے ساتھ منسوخ کر دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد ریاست کو جموں و کشمیر اور لداخ کے دو الگ الگ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کر دیا گیا۔

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اسٹوچیوز آف یونٹی کو دیکھنے کے بعد کہا:"میں نے نہیں سوچا تھا کہ یہ مجسمہ اتنا عظیم الشان ہوگا۔ اسے دیکھ کر ہی سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ کس جذبے اور سوچ سے بنایا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے صحافیوں سے بات چیت میں اعتراف کیا کہ 22 اپریل کو پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد ریاست میں سیاحت کو بڑا دھچکا لگا، اس حملے میں گجرات، مہاراشٹرا اور کرناٹک کے 26 سیاح مارے گئے، جس کی وجہ سے وادی میں خوف کا ماحول ہے۔

جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا کہ 2019 میں جو کہا گیا تھا اورآج کی حقیقت میں فرق ہے۔ پہلگام حملے سے متعلق انہوں نے کہا کہ کئی چیزیں ہیں، جس پرمرکزی حکومت کوجواب دینا ہوگا۔

جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے بی جے پی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کہیں نہ کہیں کچھ لوگوں کوغلط فہمی ہوگئی ہے، ہم اونچی آوازمیں بات نہیں کرتے، توہم کمزورہیں۔

دریں اثنا عمر عبداللہ نے مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ریاست کے تمام منتخب نمائندوں کو بند کر دینا جمہوریت کی توہین ہے۔

جموں و کشمیر اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے کہا کہ حزب اختلاف کی پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی کا یہ الزام کہ 13 جولائی کو تعطیل کا اعلان کرنے والی پارٹی کی قرارداد کو ایوان میں پیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، بے بنیاد ہے۔