Bharat Express DD Free Dish

CM Omar Abdullah

فاروق عبداللہ نے کہا کہ پارٹی قیادت نے ناراض لیڈروں سے بات چیت کی ہے اور ان کے مسائل کو سنجیدگی سے سنا گیا ہے۔ ان کے مطابق اراکین اسمبلی کی شکایات جائز تھیں اور ان پر مناسب توجہ دی گئی ہے۔ کچھ معاملات میں جلد اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ دیگر مسائل کو مرحلہ وار حل کیا جائے گا۔انہوں نے پارٹی میں پھوٹ کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ غلط تاثر پھیلایا جا رہا ہے کہ نیشنل کانفرنس تقسیم ہو گئی ہے۔

آغا روح اللہ کا کہنا ہے کہ جن موضوعات سے متعلق عوام سے حمایت مانگی گئی تھی، انہیں اب پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے۔ اسی ناراضگی کے سبب انہوں نے پارٹی اور رکنیت دونوں سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ آغا روح اللہ کا نیشنل کانفرنس سے تقریباً 24 سال پرانا رشتہ رہا ہے۔ وہ 2024 کے لوک سبھا اورجموں وکشمیراسمبلی الیکشن کے دوران پارٹی کے اہم چہروں میں شامل تھے۔

یادداشت پر دستخط کرنے والے اراکین اسمبلی نے عوامی توقعات اور حکومت کے درمیان بڑھتی دوری، منتخب نمائندوں سے مشورہ نہ کیے جانے اور ان کی شکایات پر توجہ نہ دینے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ 30 اکتوبر کی تاریخ والی اس یادداشت میں ناراض اراکین اسمبلی نے نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت کے کام کاج پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کے دو سال مکمل ہونے کے باوجود جوابدہی کا فقدان ہے اور اہم پالیسی و سیاسی معاملات پر منتخب نمائندوں سے مناسب مشاورت نہیں کی جاتی۔

خفیہ میٹنگ کی اطلاعات کے بعد کوئی بھی رکن اسمبلی کھل کرکیمرے کے سامنے قیادت کے خلاف بیان نہیں دے رہا ہے، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ 15 سے زائد اراکین اسمبلی کی ناراضگی عمر عبداللہ حکومت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس میٹنگ میں اراکین اسمبلی نے کابینہ کی ’’غیرمنصفانہ توسیع‘‘ کے خلاف مشترکہ حکمت عملی تیارکرنے پرغورکیا۔

 جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے اپنی ذاتی زندگی سے متعلق ایک بڑی خوشخبری سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پرتصویرشیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’کل ایک نیا سفرشروع ہوا‘‘۔ آپ کو بتادیں کہ سپریم کورٹ نے تین ماہ قبل پائل عبداللہ سے باہمی رضامندی کے تحت طلاق کی منظوری دی تھی۔

عمر عبداللہ نے پاکستان کے اس دعوے پر سوال اٹھایا کہ وہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب پانی کے مسئلے کی بات آتی ہے تو پاکستان کی یہ ہمدردی کہاں چلی جاتی ہے؟ ہماری ندیوں کے استعمال کے حق کے معاملے میں اس نے کشمیریوں کا ساتھ کیوں نہیں دیا؟ انہوں نے کہا کہ6  ندیوں میں سے بھارت نے پنجاب میں بہنے والی تین ندیاں اپنے پاس رکھیں، جبکہ جموں و کشمیرسے متعلق تین ندیاں پاکستان کے حصے میں چلی گئیں۔

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے Gen-Z سے متعلق بیان کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی مخالفت کرنا ملک مخالف ہونا نہیں ہے۔

جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کے مطالبے کے سلسلے میں نیشنل کانفرنس نے 20 جولائی کو جنتر منتر پر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ اتوار کو وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے مرکز پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر دہلی ہماری آواز نہیں سن رہی تو کیا ہمیں وائٹ ہاؤس جا کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرنی پڑے گی؟

جاوید اقبال چودھری نے الزام لگایا کہ نائب وزیر اعلیٰ کا طرز عمل آمرانہ ہے اور انہوں نے نہ صرف وزیر اعلیٰ بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نائب وزیر اعلیٰ ان ارکان اسمبلی کو پارٹی سے نکالنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں جو ان کے فیصلوں پر اعتراض کرتے ہیں۔

نیشنل کانفرنس کے کچھ اراکین اسمبلی پارٹی چھوڑنے کی قیاس آرائیوں پر وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا، "اگرکچھ اراکین اسمبلی چھوڑ کرجانے کی تیاری کررہے تھے توکیا میں یہاں تقریب میں بیٹھا ہوتا؟ یہ بے بنیاد باتیں ہیں، یہ وہی لوگ ہیں، جنہوں نے ان کی ہدایت کے مطابق راجیہ سبھا میں بی جے پی کی مدد کی، ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں۔