جموں و کشمیر کو جلد ہی مکمل ریاست کا درجہ ملنے کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ایسا کچھ نہیں ہونے والا ہے۔البتہ عمر عبداللہ نے اسمبلی کے آئندہ مانسون اجلاس کے دوران کچھ مثبت ہونے کی امید بھی ظاہر کی ہے۔جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کو بحال کرنے کی بات چیت صدر دروپدی مرمو کی وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ مسلسل ملاقاتوں کے بعد شروع ہوئی۔ ان قیاس آرائیوں کو اس وقت مزید ہوا ملی جب امت شاہ نے جموں و کشمیر کے کچھ لیڈروں اور بی جے پی کے مقامی سربراہ سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم مودی نے منگل کو این ڈی اے ممبران پارلیمنٹ کی ایک اہم میٹنگ بھی بلائی ہے۔
افواہوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہاکہ میں نے سب کچھ سنا ہے کہ جموں و کشمیر میں کل کیا ہونے کی توقع ہے، اس لیے میں نے اپنی گردن کھینچ لی اور کہا کہ کل کچھ نہیں ہوگا، خوش قسمتی سے کچھ برا نہیں ہوگا، لیکن بدقسمتی سے کچھ مثبت نہیں ہوگا، میں اب بھی پرامید ہوں کہ جموں و کشمیر کے لیے کچھ مثبت ہو گا، لیکن پارلیمنٹ کے اس مونس سیشن میں نہیں۔ عمر عبداللہ نے دہلی میں مرکزی قیادت کے ساتھ کسی بھی ملاقات یا بات چیت سے بھی انکار کیا۔ انہوں نے کہا یہ تو محض ایک اندرونی احساس ہے، کل اس وقت کو دیکھتے ہیں۔
I’ve heard every possible permutation & combination about what to expect in J&K tomorrow so let me stick my neck out and say nothing will happen tomorrow – fortunately nothing bad will happen but unfortunately nothing positive will happen either. I’m still optimistic about…
— Omar Abdullah (@OmarAbdullah) August 4, 2025
واضح رہے کہ پانچ اگست 2019 کو جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آرٹیکل 370 کو مرکز کی مودی حکومت نے پارلیمنٹ میں بھاری اکثریت کے ساتھ منسوخ کر دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد ریاست کو جموں و کشمیر اور لداخ کے دو الگ الگ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ ادھر اتوار کو وزیر اعظم مودی نے نئی دہلی کے راشٹرپتی بھون میں صدر دروپدی مرمو سے ملاقات کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ملاقات کی تفصیلات دستیاب نہیں کی گئیں۔ میٹنگ کے چند گھنٹے بعد امت شاہ نے صدر جمہوریہ سے ملاقات کی۔ اس مہینے کے پہلے دو دنوں میں وزیر داخلہ نے جموں و کشمیر بی جے پی کے سربراہ ست شرما اور لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر کویندر گپتا سے بھی ملاقاتیں کیں۔ پیر کو آل جے اینڈ کے شیعہ ایسوسی ایشن کے صدر عمران رضا انصاری نے امت شاہ سے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے زمینی حقائق پر تبادلہ خیال کیاتھا۔ان تمام ملاقاتوں کو دیکھتے ہوئے یہ قیاس لگایا جارہا ہے کہ کل پانچ اگست کو جب مرکزی کے فیصلے کو چھ سال پورے ہورہے ہوں گے تبھی مرکزی حکومت جموں کشمیر کو اس کی مکمل ریاستی حیثیت لوٹانے کا اعلان کرسکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





