Bharat Express DD Free Dish

CM Omar Abdullah

جموں وکشمیرکے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ آپریشن سندورکے بعد جموں وکشمیرمیں ایمرجنسی میٹنگ بلائی ہے۔ ممکنہ طورپریہ میٹنگ پاکستان سے متصل علاقوں میں موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے بلائی گئی ہے۔

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتے کے روز دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے سمیت مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا۔

جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے اسمبلی میں کہا کہ کوئی کشمیری حملہ نہیں چاہتا ہے۔ 21 سال بعد میں نے ایسے حملے دیکھے ہیں۔ معافی مانگنے کے لئے ہمارے پاس لفظ نہیں ہے۔

عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’مجرموں کو سزا دیں، ان پر رحم نہ کریں۔ لیکن بے گناہ لوگوں کو کولیٹرل ڈیمیج کا شکار نہ ہونے دیں۔‘‘

حکومت نے کہا ہے کہ اس حملے کے پیچھے پڑوسی ملک پاکستان کا ہاتھ ہے۔ پہلگام واقعے کے بعد، کابینہ کمیٹی برائے سلامتی کے اجلاس میں مرکزی حکومت نے کئی سخت اور بڑے فیصلے لیے، جن میں سندھ طاس معاہدہ منسوخ کرنا، پاکستان سے اپنے سفارت کاروں کو واپس بلانا اور ہندوستان میں پاکستانی سفارت خانے میں عملے کی تعداد 55 سے کم کرکے 30 کرنا اہم تھے۔

کانگریس کے سابق صدر نے کہاکہ میری  تعزیت ان تمام لوگوں کے ساتھ ہے جنہوں نے اپنے کنبہ کے افراد کو کھویا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ سب کو معلوم ہو کہ پورا ملک ایک ساتھ کھڑا ہے۔ کل ہم نے حکومت کے ساتھ میٹنگ کی اور متحدہ اپوزیشن نے اس کارروائی کی مذمت کی۔

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پہلگام دہشت گردانہ حملے میں ہلاک ہونے والے کشمیری شخص کی آخری رسومات میں شرکت کی۔

وزیر اعظم کے آفس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حملے میں شدید زخمی ہونے والوں کو دو دو لاکھ روپے دیے جائیں گے۔

جموں و کشمیر کے پہلگام میں سیاحوں پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کرنے سری نگر پہنچ گئے ہیں۔

محکمہ موسمیات نے تمام متعلقہ محکموں اور لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موسم کی پیش گوئی کے مطابق اپنے پروگراموں کی منصوبہ بندی کریں اور انتظامیہ یا محکمہ ٹریفک کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔ کسانوں کو خاص طور پر مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کوئی بھی زرعی کام 21 اپریل تک ملتوی کر دیں، تاکہ موسم سے متعلق خطرات سے بچا جا سکے۔