Bharat Express DD Free Dish

CM Omar Abdullah

حکومت نے کہا ہے کہ اس حملے کے پیچھے پڑوسی ملک پاکستان کا ہاتھ ہے۔ پہلگام واقعے کے بعد، کابینہ کمیٹی برائے سلامتی کے اجلاس میں مرکزی حکومت نے کئی سخت اور بڑے فیصلے لیے، جن میں سندھ طاس معاہدہ منسوخ کرنا، پاکستان سے اپنے سفارت کاروں کو واپس بلانا اور ہندوستان میں پاکستانی سفارت خانے میں عملے کی تعداد 55 سے کم کرکے 30 کرنا اہم تھے۔

کانگریس کے سابق صدر نے کہاکہ میری  تعزیت ان تمام لوگوں کے ساتھ ہے جنہوں نے اپنے کنبہ کے افراد کو کھویا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ سب کو معلوم ہو کہ پورا ملک ایک ساتھ کھڑا ہے۔ کل ہم نے حکومت کے ساتھ میٹنگ کی اور متحدہ اپوزیشن نے اس کارروائی کی مذمت کی۔

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پہلگام دہشت گردانہ حملے میں ہلاک ہونے والے کشمیری شخص کی آخری رسومات میں شرکت کی۔

وزیر اعظم کے آفس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حملے میں شدید زخمی ہونے والوں کو دو دو لاکھ روپے دیے جائیں گے۔

جموں و کشمیر کے پہلگام میں سیاحوں پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کرنے سری نگر پہنچ گئے ہیں۔

محکمہ موسمیات نے تمام متعلقہ محکموں اور لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موسم کی پیش گوئی کے مطابق اپنے پروگراموں کی منصوبہ بندی کریں اور انتظامیہ یا محکمہ ٹریفک کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔ کسانوں کو خاص طور پر مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کوئی بھی زرعی کام 21 اپریل تک ملتوی کر دیں، تاکہ موسم سے متعلق خطرات سے بچا جا سکے۔

جموں وکشمیر اسمبلی میں وقف ایکٹ پر تجویز منظور نہیں ہو پائی ہے، جس سے سیاسی پارٹیوں میں تشویش ہے۔ پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے اس پرمیٹنگ بلائی۔ پارٹی لیڈران نے اسمبلی کی اس خاموشی پرسنگین اعتراض ظاہرکیا ہے اوروقف املاک کی بدانتظامی کو روکنے کے لئے مناسب قانون سازی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس معاملے پرحکومت سے وضاحت طلب کی ہے۔

تحریک عدم اعتماد پر راتھر نے کہا کہ اگر کسی نے میرے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی ہے تو یہ جمہوری عمل کا حصہ ہے، ہم اس کی تحقیقات کریں گے اور ایوان جو بھی فیصلہ کرے گا ہم اس کا احترام کریں گے۔ راتھر نے یہ بھی کہا کہ ان کا کام غیر جانبداری اور آئینی ذمہ داریوں کے مطابق کام کرنا ہے۔

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو کہا کہ ان کی حکومت مرکزی وزارت داخلہ کو تعاون فراہم کر رہی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں سیکیورٹی کی صورت حال پرامن رہے۔

جے پی سی کے چیئرمین اور بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال نے کہا کہ وہ ملک میں "عدم استحکام" پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ چاہے وہ عمران مسعود ہوں یا اے آئی ایم پی ایل بی، وہ اقلیتوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔