جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ۔ (فائل فوٹو)
Jammu and Kashmir CM Omar Abdullah on India-Pakistan Ceasefire News: ہندوستان- پاکستان دونوں ہی ممالک میں ہفتہ (10 مئی) کو شام پانچ بجے سے سیز فائرنافذ کیا گیا۔ حالانکہ اس کے 4 گھنٹے کے بعد ہی پاکستان کی طرف سے سیز فائرکی خلاف ورزی کی گئی۔ وہیں اس پر اب جموں وکشمیرکے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کا بیان سامنے آیا ہے۔ عمرعبداللہ نے کہا، “آخری جنگ بندی کا کیا ہوا؟ سری نگرمیں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ یہ کوئی جنگ بندی نہیں ہے۔ سری نگر کے وسط میں ایئرڈیفنس یونٹ نے ابھی ابھی گولی باری شروع کی ہے۔”
سیزفائرکی کہاں ہوئی خلاف ورزی؟
ذرائع کے مطابق، جموں وکشمیر کے ادھم پور، اخنور، نوشیرا، پونچھ، راجوری، میندھار، جموں، آرایس پورہ سیکٹر، سندربنی، ارنیا اورکٹھوعہ میں سیزفائر کی خلاف ورزی کی گئی۔ اس درمیان جموں وکشمیر پولیس نے تصدیق کی ہے کہ کشمیر کے سری نگرمیں کئی دھماکے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ بین الاقوامی سرحد پرجموں، آرایس پورہ، سیکٹرمیں پاکستان کی کراس بارڈر فائرنگ کا بی ایس جواب دے رہی ہے۔ ایل اوسی کے اخنور سیکٹرمیں بھی فائرنگ کے حادثات سامنے آئی ہیں۔ فوج اس کے بارے میں لوک فارمیشن سے جانکاری جمع کرنے میں مصروف ہے۔ وہیں ان حالات کو دیکھتے ہوئے سری نگرمیں پوری طرح سے بلیک آوٹ کردیا گیا ہے۔ ساتھ ہی کارگل میں بھی بلیک آوٹ کیا گیا ہے۔ جانکاری کے مطابق، 8:50 پردھماکوں کی آواز سنائی دی گئی۔ اس کے بعد گولی باری شروع ہوئی، بعد میں ہوا میں ڈرون دیکھے گئے۔
سیزفائرپرعمرعبداللہ نے کیا کہا؟
اس سے پہلے سیز فائر سے متعلق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا تھا، “ابھی حال ہی میں تھوڑی دیرپہلے دوبارہ سیزفائر کوقائم کرنے کا اعلان ہوا، اس کا میں دل کی گہرائی سے خیرمقدم کرتا ہوں۔ آخرکار پاکستان کے ڈی جی ایم او نے ہمارے ڈی جی ایم او کو فون کرکے بات کی۔ دیرآئے، درست آئے۔ جہاں جہاں لوگ زخمی ہیں، ان کا صحیح علاج ہو۔ جہاں جہاں جان گئی ہے، ان لوگوں کی بھرپائی کریں۔”
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


