Bharat Express DD Free Dish

Bangladesh

پرتھوم آلو میڈیا آؤٹ لیٹ کے مطابق، ڈھاکہ ساؤتھ سٹی کے بی این پی کنوینر اور خالدہ ضیاء کے انتخابی کوآرڈینیٹر منشی رفیق الاسلام عالم (جو مجنوں کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں) نے بھی اسی حلقے سے بی این پی امیدوار کے طور پر اپنا نامزدگی فارم داخل کیا ہے۔

بنگلہ دیش میں انتہاپسند عناصر کے ہاتھوں اقلیتوں پر ہو رہے حملوں پر کلکی دھام کے پیٹھادھیشور آچاریہ پرمود کرشنم نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سناتن کو مٹانے والے خود مٹ گئے، مگر سناتن آج بھی زندہ ہے۔

اتر پردیش کے ضلع فتح پور میں فرقہ وارانہ کشیدگی سے جڑا ایک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں بنگلہ دیش میں ایک ہندو نوجوان کی مبینہ ماب لنچنگ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بجرنگ دل کے کارکنوں نے ایک قدیم مزار کو نشانہ بنایا۔

کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ دگ وجے سنگھ نے بنگلہ دیش میں جاری تشدد کو براہِ راست بھارت کی اندرونی صورتحال سے جوڑتے ہوئے اسے ’ری ایکشن‘ یعنی ردِعمل قرار دیا ہے۔

بھارت مخالف لیڈر شریف عثمان ہادی کی سنگاپور میں علاج کے دوران موت کے بعد بنگلہ دیش میں حالات بے قابو ہو گئے ہیں۔ ڈھاکہ سمیت کئی علاقوں میں پرتشدد مظاہرے اور آتش زنی کے واقعات پیش آئے ہیں، جس کے باعث پورے ملک میں کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔

بنگلہ دیش میں انتخابات کا اعلان ہو گیا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی ملک کی سیاسی سر گرمیاں بھی بڑھ گئی ہیں۔ تاریخوں کے اعلان کے بعد شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کا پہلا ردِعمل سامنے آ گیا ہے۔

بنگلہ دیش میں 13واں پارلیمانی الیکشن 12 فروری 2026 کو ہوگا۔ اسی دن جولائی چارٹر کونافذ کرنے کے لئے ایک ریفرنڈم بھی ہوگا۔ 12 فروری کو صبح 7:30 بجے سے شام 4:30 بجے تک ووٹنگ ہوگی۔ اس بار ووٹنگ کا وقت ایک گھنٹہ بڑھایا گیا ہے کیونکہ اسی دن ریفرنڈم بھی ہو رہا ہے۔

مدھیہ پردیش کے گوالیار ضلع میں انتظامیہ نے غیر قانونی بنگلہ دیشی اور روہنگیا شہریوں کے خلاف سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔ شہر میں کرائے پر یا خفیہ طور پر رہنے والے تمام افراد کی مکمل معلومات 15 دنوں کے اندر متعلقہ تھانے میں جمع کرانا لازمی کر دیا گیا ہے۔ مقررہ مدت میں معلومات نہ دینے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

بنگلہ دیش میں عام انتخابات کا اعلان کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے۔ اسی درمیان شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کو بڑی چھوٹ حکومت سے ملی ہے۔ عوامی لیگ کے لیڈرآزاد الیکشن لڑ سکتے ہیں۔ حالانکہ یہ چھوٹ صرف ان لیڈران کو دی گئی ہے، جن پرقتل عام کے کیس درج نہیں ہیں۔

ڈھاکا انتظامیہ نے بتایا کہ نہ کسی عمارت میں دراڑ آئی ہے اور نہ کسی شخص کے زخمی ہونے کی خبر ملی ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں میں مسلسل ہلکی کمپنے ریکارڈ ہونے سے عوام میں تشویش ضرور پائی جاتی ہے،