Bharat Express DD Free Dish

Bangladesh

کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ دگ وجے سنگھ نے بنگلہ دیش میں جاری تشدد کو براہِ راست بھارت کی اندرونی صورتحال سے جوڑتے ہوئے اسے ’ری ایکشن‘ یعنی ردِعمل قرار دیا ہے۔

بھارت مخالف لیڈر شریف عثمان ہادی کی سنگاپور میں علاج کے دوران موت کے بعد بنگلہ دیش میں حالات بے قابو ہو گئے ہیں۔ ڈھاکہ سمیت کئی علاقوں میں پرتشدد مظاہرے اور آتش زنی کے واقعات پیش آئے ہیں، جس کے باعث پورے ملک میں کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔

بنگلہ دیش میں انتخابات کا اعلان ہو گیا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی ملک کی سیاسی سر گرمیاں بھی بڑھ گئی ہیں۔ تاریخوں کے اعلان کے بعد شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کا پہلا ردِعمل سامنے آ گیا ہے۔

بنگلہ دیش میں 13واں پارلیمانی الیکشن 12 فروری 2026 کو ہوگا۔ اسی دن جولائی چارٹر کونافذ کرنے کے لئے ایک ریفرنڈم بھی ہوگا۔ 12 فروری کو صبح 7:30 بجے سے شام 4:30 بجے تک ووٹنگ ہوگی۔ اس بار ووٹنگ کا وقت ایک گھنٹہ بڑھایا گیا ہے کیونکہ اسی دن ریفرنڈم بھی ہو رہا ہے۔

مدھیہ پردیش کے گوالیار ضلع میں انتظامیہ نے غیر قانونی بنگلہ دیشی اور روہنگیا شہریوں کے خلاف سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔ شہر میں کرائے پر یا خفیہ طور پر رہنے والے تمام افراد کی مکمل معلومات 15 دنوں کے اندر متعلقہ تھانے میں جمع کرانا لازمی کر دیا گیا ہے۔ مقررہ مدت میں معلومات نہ دینے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

بنگلہ دیش میں عام انتخابات کا اعلان کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے۔ اسی درمیان شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کو بڑی چھوٹ حکومت سے ملی ہے۔ عوامی لیگ کے لیڈرآزاد الیکشن لڑ سکتے ہیں۔ حالانکہ یہ چھوٹ صرف ان لیڈران کو دی گئی ہے، جن پرقتل عام کے کیس درج نہیں ہیں۔

ڈھاکا انتظامیہ نے بتایا کہ نہ کسی عمارت میں دراڑ آئی ہے اور نہ کسی شخص کے زخمی ہونے کی خبر ملی ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں میں مسلسل ہلکی کمپنے ریکارڈ ہونے سے عوام میں تشویش ضرور پائی جاتی ہے،

بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی بگڑتی ہوئی صحت کے حوالے سے ملک بھر میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ ان کی جلد صحت یابی کے لیے ملک کے مختلف حصوں میں دعاؤں اور عبادات کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی دوران بی این پی اسٹینڈنگ کمیٹی نے ایک بڑا اور سنگین دعویٰ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ عوامی لیگ حکومت کے دورِ اقتدار میں جیل میں قید کے دوران خالدہ ضیا کو ’سلو پوائزننگ‘ دیا گیا تھا۔

بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق محمد یونس نے جمعہ کی شب اپنے قانونی مشیر آصف نذرل اور خصوصی معاون منیر حیدر کو بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن خالدہ ضیا کی طبی صورتحال جاننے کے لیے ایور کیئر اسپتال بھیجا تھا۔

بنگلادیش کی ایک خصوصی عدالت نے جمعرات کے روز سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو تین کرپشن کیسز میں مجموعی طور پر اکیس سال قید کی سزا سناتے ہوئے ملک کی سیاست میں ایک بڑا موڑ پیدا کر دیا ہے۔ ڈھاکہ کے اسپیشل جج محمد عبداللہ نے اپنے فیصلے میں بتایا کہ ہر مقدمے میں سات سال قید کی سزا مقرر کی گئی ہے، جبکہ انہی الزامات سے متعلق باقی تین مقدمات کا فیصلہ یکم دسمبر کو سنایا جائے گا۔