Bharat Express DD Free Dish

Bangladesh

انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد، 13 فروری 2026 کو وزیر اعظم نریندر مودی نے طارق رحمان کو فون پر مبارکباد دی۔ اس دوستانہ گفتگو کے دوران وزیراعظم مودی نے ایک جمہوری اور جامع بنگلہ دیش کے لیے بھارت کی مضبوط حمایت کو دہرایا

بنگلہ دیش میں جمعرات کو 13ویں پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل ختم ہوگیا۔ سخت سیکیورٹی انتظامات اور عوامی جوش و خروش کے درمیان ملک بھر کی 299 نشستوں پر ووٹ ڈالے گئے، تاہم انتخابی عمل کے دوران کئی پولنگ بوتھوں پر تشدد، بدامنی اور خواتین پولنگ ایجنٹس کو ہراساں کیے جانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔

بنگلہ دیش میں جمعرات کو جاری پارلیمانی انتخابات کے دوران کئی پولنگ اسٹیشن پر ہنگامہ اور تشدد کے واقعات سامنے آئے۔ اس دوران بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) کے ایک لیڈر کی موت بھی ہوئی، جس سے ملک میں سیاسی کشیدگی اور تشویش پیدا ہو گئی۔

بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس نے جمعرات کو صبح تقریباً 10:20 بجے ڈھاکہ کے گلشن ماڈل ہائی اسکول اینڈ کالج میں 13ویں پارلیمانی انتخابات میں اپنا ووٹ ڈالا۔ ووٹ ڈالنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یونس نے کہا کہ یہ الیکشن نئے بنگلہ دیش کے یوم پیدائش کے مترادف ہے۔

عالمی تجارت کے بدلتے منظرنامے میں بھارت نے برآمدات کے محاذ پر ایک اہم برتری حاصل کر لی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق بھارت کا اوسط ٹیرف 18 فیصد ہے، جو کئی بڑی مسابقتی برآمدی معیشتوں کے مقابلے میں کم ہے۔

ڈھاکہ کی ایک خصوصی عدالت نے پرباچل پلاٹ اسکینڈل میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو 10 سال اوران کی بھانجی ٹیولپ صدیق کو4 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اس کیس میں شیخ حسینہ کے خاندان کے دیگرافراد کوبھی سزا سنائی گئی تھی۔

بنگلہ دیش کی عبوری یونس حکومت نے گزشتہ سال جولائی میں شیخ حسینہ کے خلاف جولائی میں ہونے والی بغاوت کے مظاہرین کے خلاف دائر تمام دیوانی اور فوجداری مقدمات کو واپس لینے کا آرڈیننس جاری کیا ہے۔ یہ اقدام آئندہ الیکشن سے قبل سیاسی طورپر اہم ہے۔

بھارت آج 26 جنوری کو اپنا 77ویں یومِ جمہوریہ منا رہا ہے۔ اس موقع پر امریکہ، چین، فرانس اور بنگلہ دیش سمیت دنیا کے کئی ممالک نے بھارت کو مبارکباد پیش کی ہے۔

آئی سی سی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آزادانہ سکیورٹی جائزے میں بنگلہ دیشی ٹیم کی حفاظت کے حوالے سے کوئی خطرہ نہیں پایا گیا۔ ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کا آغاز 7 فروری سے ہونا ہے، اس لیے گورننگ باڈی نے مانا کہ اتنے کم وقت میں بنگلہ دیش کے میچوں کے وینیو میں تبدیلی ممکن نہیں ہے۔

بورڈ میٹنگ کے بعد بنگلہ دیش کو 24 گھنٹے کا اضافی وقت دیا گیا تھا اور واضح طور پر بتا دیا گیا تھا کہ اگر وہ ورلڈ کپ کے لیے بھارت نہ جانے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ٹورنامنٹ میں شامل کر لیا جائے گا۔