Pakistan supports Bangladesh’s stance: پاکستان نے کی بنگلہ دیش کے موقف کی حمایت، ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے BCB نے اپنی ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا کیا ہے فیصلہ
پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کے حتمی فیصلے سے عین قبل بنگلہ دیش کی حمایت میں یہ خط لکھا ہے۔ حالانکہ، یہ بھی مانا جا رہا ہے کہ پی سی بی کے اس خط کا آئی سی سی کے مؤقف پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔ بی سی بی نے بنگلہ دیش حکومت کی حمایت کے ساتھ ٹیم کے گروپ اسٹیج میچز کے لیے بھارت آنے سے انکار کر دیا ہے۔
ICC T20 World Cup 2026: بنگلہ دیش پر بھارت میں کھیلنے کا دباؤ کوئی نہیں بنا سکتا: آصف نذرل کا دعویٰ
ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے حوالے سے بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ آئی سی سی کی جانب سے 21 جنوری تک کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن سے ایک دن قبل بنگلہ دیش حکومت کے کھیل مشیر آصف نذرل نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی بنگلہ دیش پر بھارت میں اپنے میچ کھیلنے کا دباؤ نہیں بنا سکتا۔
T20 World Cup 2026: ٹی20 ورلڈ کپ سے قبل تنازعہ، بنگلہ دیش کا بھارت میں کھیلنے سے انکار، جانئے آئی سی سی نے کیا کہا؟
آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ 2026 سے قبل بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے بنگلہ دیش نے بھارت میں میچ کھیلنے سے انکار کر دیا ہے، تاہم آئی سی سی نے شیڈول میں کسی بھی قسم کی تبدیلی سے صاف انکار کر دیا ہے۔
Acharya Pramod Krishnam Appeals For Action: بنگلہ دیش میں ہندو اقلیتوں پر ظلم ناقابل برداشت، وزیر اعظم مودی سخت قدم اٹھائیں: آچاریہ پرمود کرشنم
پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اور مبینہ مظالم پر اب بھارت میں آوازیں تیز ہونے لگی ہیں۔ کلکی دھام کے پیٹھادھیشور آچاریہ پرمود کرشنم نے مودی حکومت سے اس معاملے میں سخت اور فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
Bangladesh Ex PM Sheikh Hasina: ’بنگلہ دیش کو اندھیرے سے بچانے کے لیے متحد ہوں‘، شیخ حسینہ کی عوام سے اپیل، عبوری حکومت پر سنگین الزامات
بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم اور عوامی لیگ کی صدر شیخ حسینہ نے ملک کی موجودہ صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ متحد ہو کر بنگلہ دیش کو ’’اندھیرے‘‘ کی طرف دھکیلے جانے سے بچائیں۔ انہوں نے محمد یونس کی قیادت والی عبوری حکومت پر بے لگام بدعنوانی، جھوٹ اور ذاتی مفادات کے ذریعے ملک کو تباہی کے دہانے پر لے جانے کا الزام عائد کیا ہے۔
Khaleda Zia Funeral: خالدہ ضیا کی وراثت ہمیشہ رہے گی، ان کی جگہ پُر نہیں کی جا سکتی: وزیر اعظم مودی
بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیر اعظم خالدہ ضیا کا 30 دسمبر 2025 کی صبح انتقال ہو گیا، جس سے بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا۔ بھارتی وزیر اعظم مودی نے خالدہ ضیا کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے، اسے پُر نہیں کیا جا سکتا، تاہم ان کا وژن اور سیاسی وراثت ہمیشہ زندہ رہے گی۔
S Jaishankar to attend Khaleda Zia’s funeral: بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کے جنازے میں شریک ہوں گے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر، 31 دسمبر کو پہنچیں گے ڈھاکہ
بی این پی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، خالدہ ضیاء کا انتقال صبح تقریباً 6 بجے ڈھاکہ کے ایورکیئر اسپتال میں ہوا۔ گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے اسی اسپتال میں ان کا علاج جاری تھا۔ بیان میں کہا گیا کہ بی این پی چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم، قومی لیڈر خالدہ ضیاء کا منگل کی صبح فجر کی نماز کے فوراً بعد انتقال ہو گیا
Khaleda Zia to contest elections: خالدہ ضیاء لڑیں گی الیکشن، پارٹی نے ان کی طرف سے داخل کیا نامزدگی فارم
پرتھوم آلو میڈیا آؤٹ لیٹ کے مطابق، ڈھاکہ ساؤتھ سٹی کے بی این پی کنوینر اور خالدہ ضیاء کے انتخابی کوآرڈینیٹر منشی رفیق الاسلام عالم (جو مجنوں کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں) نے بھی اسی حلقے سے بی این پی امیدوار کے طور پر اپنا نامزدگی فارم داخل کیا ہے۔
Acharya Pramod Krishanam statement: بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر ہو رہے حملوں پر آچاریہ پرمود کرشنم کا بیان — کہا، سناتن ایک اٹل حقیقت ہے، انتہاپسند اسے مٹا نہیں سکتے
بنگلہ دیش میں انتہاپسند عناصر کے ہاتھوں اقلیتوں پر ہو رہے حملوں پر کلکی دھام کے پیٹھادھیشور آچاریہ پرمود کرشنم نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سناتن کو مٹانے والے خود مٹ گئے، مگر سناتن آج بھی زندہ ہے۔
Shrine Vandalised in Fatehpur: ’یہ بنگلہ دیش نہیں، ہندوستان ہے‘، فتح پور میں بجرنگ دل کارکنوں کا ہنگامہ، قديم مزار کی توڑ پھوڑ، ویڈیو وائرل
اتر پردیش کے ضلع فتح پور میں فرقہ وارانہ کشیدگی سے جڑا ایک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں بنگلہ دیش میں ایک ہندو نوجوان کی مبینہ ماب لنچنگ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بجرنگ دل کے کارکنوں نے ایک قدیم مزار کو نشانہ بنایا۔





