Bharat Express DD Free Dish

Asaduddin Owaisi

ڈومریاگنج کے رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال نے اسدالدین اویسی کی للکار پر سخت پلٹ وارکیا ہے۔ انہوں نے اسدالدین اویسی سے متعلق کہا کہ انہوں نے مہاراجہ سہیل دیو سے منسلک سرزمین پر ایک حملہ آور کی تعریف کرکے اپنی انتخابی مہم شروع کی ہے۔ یہ خوشنودی کی سیاست ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم اورنفرت پیدا کرنے کی کوشش ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایم ٹی سیٹے بیلو 10 جون کو آبنائے ہرمز کے قریب حملے کی زد میں آیا۔ جہاز پر سوار 24 بھارتی عملے کے ارکان میں سے 21 کو عمانی حکام کے تعاون سے بحفاظت بچا لیا گیا، جبکہ تین ہلاک ہوگئے۔ بھارت کی وزارتِ جہاز رانی نے جمعرات کو ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

وارث پٹھان نے کہا کہ جس معاملے کو لے کر سیاسی بحث جاری ہے، اس میں فردِ جرم پہلے ہی داخل کی جا چکی ہے اور مقدمہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ ایسی صورت حال میں کسی بھی سیاسی لیڈر کو عدالت کے فیصلے سے قبل کوئی رائے قائم کرنے یا فیصلہ سنانے کا اختیار نہیں ہے۔

اویسی نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن نے اب تک یہ اعداد و شمار جاری نہیں کیے کہ کتنے افراد کو غیر ملکی قرار دے کر فہرست سے باہر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دستیاب معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایس آئی آر کے باعث متاثر ہونے والوں میں اکثریت مسلمانوں، خواتین، غریبوں اور مہاجر مزدوروں کی ہے۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے بھی بل کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے صنفی انصاف کے اصولوں کے خلاف قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ قانون نہ صرف مذہبی آزادیوں پر اثر انداز ہوگا بلکہ خواتین، خاص طور پر بیٹیوں کے وراثتی حقوق کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

یہ تنازع اس مبینہ بیان کے بعد شروع ہوا جس میں کرن رجیجو نے مسلمانوں کی اقلیتی حیثیت کا موازنہ پارسی برادری سے کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی اتنی زیادہ ہے کہ وہ دنیا کا چھٹا بڑا ملک بن سکتی ہے، جبکہ پارسیوں کی تعداد محض تقریباً 53 ہزار ہے۔

اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی نے بھوج شالہ فیصلے کوغیرآئینی بتاتے ہوئے بابری مسجد تنازعہ سے موازنہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ ایک مذہب کو ترجحیح دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلیسیزآف ورشپ ایکٹ کو پوری طرح مذاق بناکر رکھ دیا گیا ہے۔

اے آئی ایم آئی ایم سربراہ نے اپنے ووٹروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ سماج کے تمام طبقات سے متعلق ہے۔  انہوں نے کہا، ’’ایس آئی آر کو این آر سی اور این پی آر سے جوڑا جا رہا ہے۔ این آر سی اور این پی آر کا معاملہ وزارت داخلہ کے تحت آئے گا۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ میپنگ ضروری ہے اور اگر یہ نہیں ہوگی تو والدین کے ناموں کے ذریعے کی جائے گی۔‘‘

28 اپریل کو حج کمیٹی کی جانب سے جاری ایک خط میں کہا گیا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے غیر معمولی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارتِ اقلیتی امور نے فضائی چارٹر خدمات کے کرایے میں ایک بار ترمیم کی منظوری دی ہے

 ترنمول کانگریس سے معطل کئے گئے رکن اسمبلی اسمبلی ہمایوں کبیرنے کچھ دنوں بعد ہی عام جنتا انین پارٹی (اے جے یوپی) کی تشکیل کی تھی۔ بعد میں ہمایوں کبیر نے اسدالدین اویسی کی پارٹی کے ساتھ انتخابی اتحاد کرلیا تھا۔