Bharat Express DD Free Dish

Asaduddin Owaisi

عید میلاد النبیؐ کے موقع پر دارالسلام میں ’جلسہ رحمت للعالمین‘ سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) پر بھی شدید حملہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان لوگوں نے تاریخی طور پر آئین کے بجائے ’منوسمرتی‘ کو ترجیح دی ہے۔

اویسی نے دہشت گردی کے معاملے پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آزاد ہندوستان کا پہلا دہشت گرد ناتھورام گوڈسے کسی مدرسے کا طالب علم نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ ایک آئینی عہدے پر فائز شخص اس قسم کی ’’زہریلی زبان‘‘ استعمال کرے۔ اویسی نے مزید کہا ’’جب کرسی نہ ہو تو اسٹول والوں کے پاس اپنی سیاسی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے زہر اگلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔‘‘

 سماجوادی پارٹی کے قومی صدراکھلیش یادو نے یوپی میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی کے ساتھ اتحاد پرردعمل ظاہرکیا ہے۔ انہوں نے اویسی کی پارٹی کے ساتھ جانے سے متعلق یہ بڑی بات کہی ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی پر طنز کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ 2029 کے انتخابات کے بعد ملک کو تقریباً 42 یا 45 سال عمر کا نوجوان وزیراعظم ملے، نہ کہ 80 سال کا شخص۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو نئی سوچ اور نوجوان قیادت کی ضرورت ہے۔انہوں نے اتر پردیش کے محکمۂ مال کی اس مبینہ فہرست پر بھی سوال اٹھایا۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے پارلیمنٹ مارچ کے دوران جم کر ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔ اسدالدین اویسی نے اس سے متعلق مودی حکومت پرجم کر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ سی اے اے کے احتجاجی مظاہرہ کے دوران جو ہوا، وہ شاید اب آپ لوگ بھول رہے ہیں۔ ان ویڈیو کو اب عوام کو پھر سے دیکھنا چاہئے۔

اسدالدین اویسی، سلمان خورشید اورمحب اللہ ندوی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا ایک ہی اجلاس میں شریک ہونا اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ مختلف مسلم تنظیموں کے نمائندوں کی شرکت بھی اس اجلاس کی اہمیت کو مزید بڑھا رہی ہے۔ واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتیں اورمتعدد مسلم تنظیمیں پہلے بھی یہ الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ ملک میں مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے اوربعض کارروائیاں قانون کے دائرے سے ہٹ کر کی جا رہی ہیں۔

بی ایم سی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، پربھنی ضلع کی ذاتی سرٹیفکیٹ تصدیقی کمیٹی نے 27 اپریل 2026 کوروشن شیخ کے او بی سی سرٹیفکیٹ کو منسوخ کر دیا تھا۔ یہ سرٹیفکیٹ نومبر 2025 میں جاری کیا گیا تھا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ جن ووٹروں یا ان کے والدین اور دادا دادی کے نام 2002 کی ووٹر فہرست میں موجود نہیں ہیں، ان سے 12 مخصوص دستاویزات میں سے کسی ایک کی فراہمی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جبکہ ان میں سے چار دستاویزات تلنگانہ میں عملاً دستیاب ہی نہیں ہیں۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے لیڈر اسدالدین اویسی نے راجستھان کے بیکانیر، جیسلمیر وغیرہ سرحدی اضلاع میں مسلمانوں کے مذہبی مقام کو توڑنے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے اسے جان بوجھ کرکی گئی امتیازی کارروائی بتایا ہے۔ انہوں نے اس معاملے میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ نے کہا کہ اپنی تنظیمی ناکامیوں کا الزام دوسروں پر ڈالنے کے بجائے اپوزیشن کو خود احتسابی کرنی چاہیے۔ قرآن کی آیت کا حوالہ دے کر اویسی نے اپوزیشن جماعتوں کو نصیحت دی۔